Monday, 9 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط چہاردہم) ۔

5 آرا

میں نہ اچھا ہوا ، برا نہ ہوا


ان ہنگامہ  خیزیوں   کے  درمیان تین  سال  بیت  گئے ۔  اور جو  کلاس  باسٹھ طلبا ء سے شروع ہوئی تھی ۔ تین سال گزرتے گزرتے اڑتیس  طلبا  ء کی کلاس رہ گئی ۔  کچھ گردش ِ مدام سے گھبرا کے چھوڑ گئے ۔ کچھ سختیاں جھیلنے کے عادی  نہ ہو پائے  اس لیے  چھوڑ گئے ۔مگر جوگی اور وسیم  نے غالب ؔ کا وضع  کردہ کلیہ گھول کر  پی  لیا تھا  کہ  "رنج سے  خو گر  ہوانسان  تو مٹ جاتا ہے  رنج"  اس لیے "مشکلیں ان پر پڑیں  جتنی آساں ہو گئیں۔"
جوگی  نے زندگی کو اس کی سختیوں  سمیت ہنس کے گزارنے کا  ڈھنگ سیکھ  لیا ۔    اپنے کام اپنے ہاتھ  سے کرنے کی ایسی عادت پڑی کہ الحمد اللہ آج تک کسی  کی محتاجی محسوس نہ ہو  ئی ۔  اپنے کپڑے آپ دھویا  کرتے  تھے ۔  حتیٰ کہ چھٹی  والے دن جب سب طلباء گھر چلے جاتے ، تو جوگی میاں  میس میں اماں (صابر) کے  ساتھ کھانا پکانے کے رموز  سیکھتے ۔  سبزی  کاٹنےاور پکانے میں  ایسی  مہارت  آئی  کہ اب تو اکثر خواتین  جوگی کو یہ کام اس صفائی اور چابکدستی   سے کرتا دیکھ  کر  منہ میں  انگلی نہ  بھی دبائیں تو  کم از کم ناک پہ انگلی ضرور رکھ لیتی ہیں۔
(ناک پہ انگلی  رکھنا انتہائی  حیرت کا اظہار ہے ۔ اور یہ خالصتاً ایک خاتونی ادا  ہے ۔)
دو ہفتے  بعد  ایک چھٹی ہوتی ۔سب طلباء  چھٹی کے دن گھر چلے جاتے مگر  جوگی تو شاید بھول  ہی گیا  تھا کہ اس کا بھی کوئی  گھر ہے ۔جمعہ کے دن اکثر طلباء سے ان کے  والد  ین ملنے آتے  تھے ، مگر  اس  جیل میں ایک قیدی ایسابھی تھا جس کی  کبھی کوئی ملاقات نہیں آئی ۔  یومِ والدین کے علاوہ  اکثر  طلباء کے پدران  کی طلبی ہو تی تھی ۔ مگر جوگی اس  معاملے میں آزاد اور اپنے معاملات کا خود جواب دہ تھا ۔اپنی دنیا  کا آپ بادشاہ  تھا ۔

اپنا  سا منہ لے  کے رہ گئے


وسیم اور جوگی  کی بے مثال  جوڑی  کو  توڑنے کی ہر کوشش  اور سازش  جب  ناکام ہوئی  تو  کھسیاکر کھمبا  نوچنے  کیلئے  وسیم اکرم  کے  والد صاحب کو  خط لکھ مارا گیا ۔ کہ  جوگی سے دوستی  آپ کے بیٹے  کی تعلیم اور بہترین ذہنی صلاحیتوں کے  حق میں سخت مضر ہے ۔جوگی کو  غیر نصابی  کتابیں اور ناول  وغیرہ پڑھنے کی گندی عادت  ہے ۔ اس سے  یہ  چھوت  کی بیماری  وسیم کو لگی اور نتیجہ  یہ کہ  اب  یہ  دونوں ہوسٹل  میں عمران سیریز  سے  فلمی رسالوں  تک  ہر  الا بلا کے  ڈسٹری  بیوٹر ہیں۔ لیکن سر توڑ کوششوں کے باوجود  آج  تک کوئی چھاپہ کامیاب نہیں ہوا۔ اور وسیم  اکرم کو فلمیں دیکھنے کا جوچسکا  ہے،  ڈر ہے  وہ جوگی  کو  بھی  نہ لگ جائے ۔  اس لیے جیسے ممکن ہو   دور اندیشی  کا ثبوت دیتے ہوئے اس  خطرے کا بروقت  سد باب  کیا جائے ۔
اور پھر وسیم کے والدمحمد اکرم صاحب جو کہ  پاکستان  ائیر فورس  میں آفیسر  تھے ، بنفس نفیس  جوگی سے ملنے تشریف  لائے ۔مگر  جیسا  کہ  میر تقی  میرؔ کے ساتھ  ہوا تھا  وہی ہوا، یعنی :۔ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں  ، کچھ نہ دوا  نہ کام کیا۔"جناب محمد اکرم صاحب   جوگی سے مل کر    بہت خوش ہوئے اور دو  گھنٹے کی ملاقات  کا نتیجہ یہ  نکلا  کہ جوگی کو چھٹیوں  میں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے گئے  ۔مخالفین اور بدخواہوں میں صفِ ماتم  بچھ گئی اور  وہ شام  "شامِ غریباں "کے طور پر منائی گئی ۔

کلکتے کا جو ذکر  کیا  تو  نے ہم نشیں


گرمی  کی چھٹیوں میں فیصل آباد  یعنی  وسیم اکرم کے گھر جانا ہوا ۔
اس کی بستی کا نام "بھٹہ نواب  والا"  تھا جو کہ  نیا لاہور  نامی  چھوٹے سے قصبے  کے بالکل  ہی نزدیک ہے ۔  جھنگ سے فیصل آباد جانے والے  روڈ پر  واقع ہے ۔ اس کے علاوہ گوجرہ  سے فیصل  آباد جاتے  ہوئے پینسرہ  سے کچھ پہلے ان  کا گاؤں آتا ہے ۔
وسیم  کی  والدہ صاحبہ جوگی سے مل کر  اتنی خوش ہوئیں  کہ بیان  سے باہر  ہے ۔   بے حد  پیار اور شفقت سے ملیں اور دیکھتے ہی اپنا بیٹا بنا لیا ۔  انہوں  نے کہا میرا اب تک صرف ایک بیٹا تھا اور  ماشاءاللہ اب میرے دو بیٹے ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ  دونوں میں  حیرت انگیز  مماثلت  اور مشابہت ۔یوں  جوگی  کو  ایک ماں اور ایک بڑی  بہن مل  گئیں ۔
زندگی میں بہت کچھ  دیکھا ، بہت سے لوگوں  سے ملنے کا موقع ملا ۔  بہت  سے نادر روزگار لوگوں  سے دوستی رہی ۔ مگر  وسیم اکرم  سے دوستی اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی ۔  وہ  میرا سب سے  پیارا  دوست تھا ۔  جس کی یاداس دل  سے  یقیناً موت کی تلخی  بھی نہ مٹا پائے گی۔
اگر کوئی  وسیم  اکرم   سے واقف  قاری  یہ کہانی  پڑھے یا خود وسیم پڑھے  تو  مجھے اس  کا  سراغ دے کر احسان مند ضرور کرے ۔

 

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب ؔکون ہے


وسیم اکرم  جوئیہ ۔  ایک ہمہ جہت  شخصیت ۔   ہر پہلو لا جواب  ،  ہر جہت میں بے مثال ۔
بے انتہا  بذلہ  سنج ،  بے  حد  ذہین  اور حاضر جواب ۔ اور( جوگی سے دوستی ہونے کے بعد  )سفاکی  کی حد تک منہ پھٹ  بھی ۔
  سلمان  خان  اس وقت  اس کا پسندیدہ  ہیرو تھا جب اس سوکھی  بوتھی والے کی فلمیں کم کم لوگ ہی دیکھنا پسند  کرتے تھے ۔ نہ صرف خود خوبصورت  تھا بلکہ اس  کی طرح اس آواز  بھی بہت خوبصورت اور بے حد  سریلی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ سکول اسمبلی  میں ہماری کلا س  کی طرف سے نعت  شریف  سنانے کی ذمہ داری  اس کے  دوش  پر تھی ۔ 
ہمارے استاد اور دربار شریف  کی  جامع  مسجد  کے امام  جناب مولانا غلام  محمد صاحب کا نواسا ہماری کلاس میں شامل ہوا۔  وہ  لاہور  سے آیا تھا  اس لیے  کسی  کو  کچھ  نہ سمجھتا تھا ۔  ایک دن اس کی  جو شامت  آئی  تو وسیم  کے سامنے  اپنے دکھڑے  روتے ہوئے  بولا :۔ "یار میں تو یہاں  آ کر پچھتا رہا ہوں ۔  یہاں  تو سارے جاہل گنوار بھرے  پڑے ہیں۔ ایسا  لگتا ہے یہ ایک چڑیا گھر ہے ۔"  وسیم نے برجستہ  کہا :۔ "ایساتو نہ کہو یار !اس چڑیا  گھر میں ایک لنگور کی کمی تھی   اب تمہارے آنے سےاچھی خاصی  رونق لگ گئی ہے ۔"
ایک مرتبہ  شکیل  احمد سعیدی  صاحب نے وسیم  پہ اعتراض اٹھایا  کہ تم جوگی کو  استاد، استاد  کیوں  کہتے  ہو ؟ ۔ وہ تمہارا استاد نہیں بلکہ کلاس فیلو ہے۔استاد تو ہم  ہیں  تمہارے ۔  اس پر وسیم  نے اپنی مخصوص دل جلانے  والی مسکراہٹ کے  ساتھ ایسامنہ توڑ  جواب  دیا  جو کہ  لکھنے کے تو قابل نہیں ۔البتہ اتنا  سمجھ لیجیئے  کہ شکیل  صاحب  نے لاجواب ہو کر  وسیم کو کلاس سے نکال دیا۔
ایک  بار سائنس  کے استاد جناب مجید احمد  صاحب نے  وسیم  کو  مرغا بنا  کر  دو  تین  ڈنڈے جڑ  دئیے ۔ لیکن  وسیم  نے چوں  تک نہ کی ۔  انہوں نے ہنس کے کہا اوئے تم  بندے ہو یا کھوتے ۔؟وسیم نے کہا :۔ " سر آپ نے جو تین ڈنڈے مارے ہیں  کھوتا سمجھ کے  ہی مارے ہیں۔ اب بندہ  آپ کے سمجھنے کی لاج نہ رکھے تو کیا  دوزخ میں جائے۔ " مجید صاحب بہت  ہنسے  اور پھر اس کے بعد    انہوں  نے  کبھی وسیم پر  ہاتھ نہ اٹھایا ۔
ایک بار عشا ء کے بعد  جب سب طلباء ہال میں بیٹھے رٹے  بازی میں مصروف تھے۔اور  وسیم  اکرم صاحب  نیند کی جھپکیوں سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے ۔  کہ استاد صاحب نے دیکھ لیا ۔نیند  بھگاؤ  نعرے کے  تحت  منہ دھونے کا حکم صادر کیا ، مگر  منہ دھونے کے باوجود بھی نیند نہ ٹلی تو مرغا بنا  دیا ۔  اور جب چند منٹ بعد  وسیم مرغابنا  بنا  اچا نک ورلڈ ٹریڈ  سنٹر  کی طرح زمین بوس  ہو گیا ۔تو  استاد صاحب کی حیرانی  بجا تھی ،  پوچھا:۔  اوئے ڈھیٹ کہیں  کے، تم  مرغا  بن کے بھی نیند  کر رہے تھے  ۔ تو اس  فخر  الکہلاء  نے  جماہی لیتے ہوئے  اک ادائے  بے نیازی سے کہا :۔ "سر جی  نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے ۔۔۔۔۔"طلباء نے تو  کھی کھی کھی کی ہی  استاد صاحب بھی اپنی ہنسی روکنے میں ناکام ہو گئے ۔
جیسا کہ  پہلے بھی ذکر  ہو  چکا ہے   اپنی  خوش الحانی  اور  خوبصورت آواز کے باعث  اسمبلی میں  ہماری کلاس  کی طرف سے  نعت شریف  پڑھنے  کی ذمہ داری وسیم اکرم  کے سپرد تھی ۔  ہر ہفتے  ایک  نئی نعت سنانے  کے چکر میں ایک بار  اس نے  نعت پڑھی   جو  کہ حدیقہ کیانی  کے مشہور  گانے "بوہے  باریا ں  " کی  طرز پر  تھی ۔ نعت کے مصرعے تھے :۔ "  سوچاں میریاں  مدینے ول جاندیاں ، دروداں دی صدا بن کے ۔" وسیم  نے بہت  اچھی  نعت پڑھی  مگر  روانی میں پڑھتے پڑھتے نعت سے گانے کی ٹون میں  آ گیا ۔۔۔۔
سوچاں میریاں مدینے ول  جاندیاں ۔۔۔۔۔ دروداں دی صدا بن کے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔  بوہے باریاں۔۔۔۔۔
طلباء تو  خیر  کھی  کھی  کرنے  کے  لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔  مگر  اس  لطیفے  پہ  تو  سخت سے  سخت  مولانا صاحبان  اور اساتذہ  کرام  بھی تمام تر  احتیاط  اور مصلحت  کو بالائے  طاق  رکھ کے   بے ساختہ قہقہنے پہ  مجبور  ہو گئے  ۔

5 آرا:

  • 12 September 2013 at 09:13
    Anonymous :

    جوگی نے وسیم کی جتنی تعریفیں لکھی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یقیناً تعریف کا حقدار ہے کیونکہ جھوٹی تعریف کرنا جوگی کا کام نہیں ، اور لفاظی اس کے بس کا روگ نہیں ، "جو کہوں گا سچ کہوں گا ، سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا " والا معاملہ ہے تو اس تمہید کے بعد کہنا پڑے گا کہ اس کو پڑھنے کے بعد وسیم اکرم کے مداحوں میں اضافہ ہی ہوگا ، وہ جہاں بھی ہو اللہ اس کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے اور بہت خیر و برکتیں عطا فرمائے آمین

  • 12 September 2013 at 12:31
    Anonymous :


    اگر کوئی وسیم اکرم سے واقف قاری یہ کہانی پڑھے یا خود وسیم پڑھے تو مجھے اس کا سراغ دے کر احسان مند ضرور کرے ۔

    کیوں جوگی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے اچھے اور جگری دوست کی خیر خبر کیوں نہ رکھی؟؟؟ کیا مجبوری تھی؟؟؟تم نے اس کو اتنی آسانی سے دنیا کی بھیڑ میں گم کیوں ہونے دیا؟؟؟

  • 13 September 2013 at 09:49

    یہ سب آگے اسی داستان کا حصہ ہے
    اپنے اپنے وقت پر سارے پردے اٹھتے جائیں گے
    آپ بس پڑھتی رہیئے

  • 30 May 2014 at 10:54
    Anonymous :

    پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اپنی خوش الحانی اور خوبصورت آواز کے باعث اسمبلی میں ہماری کلاس کی طرف سے نعت شریف پڑھنے کی ذمہ داری وسیم اکرم کے سپرد تھی ۔ ہر ہفتے ایک نئی نعت سنانے کے چکر میں ایک بار اس نے نعت پڑھی جو کہ حدیقہ کیانی کے مشہور گانے "بوہے باریا ں " کی طرز پر تھی ۔ نعت کے مصرعے تھے :۔ " سوچاں میریاں مدینے ول جاندیاں ، دروداں دی صدا بن کے ۔" وسیم نے بہت اچھی نعت پڑھی مگر روانی میں پڑھتے پڑھتے نعت سے گانے کی ٹون میں آ گیا ۔۔۔۔
    سوچاں میریاں مدینے ول جاندیاں ۔۔۔۔۔ دروداں دی صدا بن کے۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔ بوہے باریاں۔۔۔۔۔
    طلباء تو خیر کھی کھی کرنے کے لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔ مگر اس لطیفے پہ تو سخت سے سخت مولانا صاحبان اور اساتذہ کرام بھی تمام تر احتیاط اور مصلحت کو بالائے طاق رکھ کے بے ساختہ قہقہنے پہ مجبور ہو گئے
    بہت اچھا لگا
    نجانے جب ہیرے گم ہو جایں تو اُنکی طلب سچی کیوں نہیں رہتی
    یونہی یاد ٰآتےہیں جب ذ کرغیر ہوتا ہے

  • 2 June 2014 at 22:37

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما