Saturday, 14 September 2013

دل کے داغ

2 آرا

انتساب


کچھ سابقہ "عزیز" دوستوں کے نام


شام کے سرمئی  اندھیروں میں
یوں میرے دل کے داغ جلتے ہیں

جیسے پربت کے سبز پیڑوں پر
برف کے بعد دھوپ پڑتی  ہے

جیسے صحرا کی ریت اٹھ  اٹھ کر
اجنبی کا طواف کرتی ہے

کسی کی معصوم تمنا کو 
لوگ یوں توڑ جاتے ہیں

جیسے دم توڑتے مسافر  کو
قافلے والے چھوڑ جاتے ہیں

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما