Monday, 2 September 2013

محفلیں درہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال

3 آرا
 فدوی وہ  خوش قسمت واقع  ہوا کہ  ذوالقرنین سرور  میں دھتیاسے ۔۔۔
ہوسکتا ہے  آپ   ناواقف ہوں  ۔۔۔ یا  خیر  سے بھلکڑ واقع ہوئے ہوں۔۔۔۔ تو  آپ کی مشکل آسان کیے دیتا ہوں۔۔۔۔
نیرنگِ خیال۔۔۔۔ یہ اوٹ پٹانگ سا لفظ  پڑھ کے اکثر"پڑھے لکھے  "قسم کے ذہن مولانا آزاد کی تصنیف  کی طرف  گھوم جاتے   ہیں۔  لیکن  چونکہ ساڈے سوہنے  استاد جی فرما گئے ہیں :۔ "لازم نہیں خضر کی ہم پیروی کریں" اس  لیے پاسے کرو   مولانا  غلام نہرو  (اوہ معذرت )مولانا  آزادکو، یہ دیکھیے ناں ۔۔۔۔ یہ رہا ایک نواں نکور  نیرنگ ِ خیال۔۔۔۔۔مزے کی بات یہ کہ ہر قسم کے سالخوردہ بلکہ کِرم خوردہ "بابوں" کے اثرات سے پاک ۔۔۔  اتنا  خالص ۔۔۔۔  جتنا  ماں کا پیار ۔۔۔۔بلکہ  چند منتہیٰ قسم  مقامات   جہاں  بڑوں بڑوں کی  بابائیت اور بزرگیانہ  فرزانگی   ہانپتی  پائی گئی اور  "گنجے  فرشتوں" کے  سوختہ  پروں  کا ڈھیر  لگا ہوا تھا ۔وہاں  سے آگے کو جاتے نقشِ پا  کچھ  مستند  "کُھرا  شناسوں" کے حلفیہ  بیان  کی رُو سے انہی  حضرت  کے  ہیں۔

جس قدر  اوٹ پٹانگ  آپ کا قلمی  نام  ہے اس  سے کہیں زیادہ  موصوف نستعلیق واقع ہوئے ہیں۔

چانکیائی  بنیادوں پہ استوار  گاندھی گیری کا  ورلڈ فریب  سنٹر  اس  "نین  الیون"کے  سامنے  ریت  کا  بھدا سا تودہ  نظر آتا ہے ۔ حضرت موہن  داس  کرم چند گاندھی  جی کے  پیڈسٹل  پنکھوں ،  بریکٹ  فین، سیلنگ  فین  وغیرہ وغیرہ  کو  میری  ان خرافات ہائے بے جا   پر چیں بجبیں  ہونے  اور آگ بگولا  ہونے   بے شک  پورا حق ہے   مگر  خدا لگتی کہتا  ہوں  گاندھی جی کا  اونٹ اس کے  ٹو(پہاڑ)کے نیچے کھڑا   کے دیکھ  لیں ۔ واضح ہوجائے گا کہ  پنجاب  کے اصلی دیسی گھی اور  جنوبی افریقہ کے ڈالڈا  میں کیا فرق ہے ۔۔۔
صلائے عام  یارانِ نکتہ داں کیلئے 

اللہ جھوٹ  نہ بلوائے  میں نے  اب  تک گزری زندگی میں بڑے بڑے انٹارکٹکا آخر  کارایک  نقطے  پہ پگھلتے دیکھے  ہیں۔ سائبیریا کے آئس برگ  بھی  سرکتے  سرکتے  سرک  جاتے ہیں۔جوگی  صدقے  جائے  اس  کوہ  ہمالیہ  کے  جسے  ہلانا ممکن ہے نہ پگھلانا ۔۔۔۔ ماشاءاللہ
آپس کی  بات ہے ! مجھ پہ ایک بار  سیانے پن کا دورہ پڑا۔ میں  نے سوچایا تو  یہ حد سے زیادہ  بزدل اور دبو  ہے  یا  پھر مہان آلسی ۔ورنہ  آدمی  کو  بھلا کیسے میسر  ہوا اس قدر مشکوک  حد تک  نستعلیق  انسان ہونا۔۔؟میں نے اپنی کسوٹیاں  سنبھالیں اور موصوف کی جانچ  پڑتال  میں البیرونی  کی طرح کچھ عرصہ مغز ماری میں لگا رہا  ۔اور  نتیجہ  نکلا  کہ جس طرح  زمین  کا  گول ہونا  حقیقت  ہے  اسی طرح یہ بھی  ناقابل ِ یقین  سہی مگر  حقیقت  ہے کہ حضرت  وجوبی  حالتوں میں بھی آپے اور جامے سے  باہر  نہیں ہوتے ۔۔۔   
ایک دن  میں  نے حسد کے مارے  ،رشک  ٹپکاتے الفاظ  میں پوچھ ہی لیا :۔
  یہ آب و گِل  کہاں  سے آئے ہیں؟؟؟؟
ابر کیا چیز  ہے ؟؟؟؟  ہوا کیا ہے ؟؟؟؟
ارسطو  جس پہ قربان جائے  اور سقراط  سر دھنتا  مر جائے   اس فیلسوفی  مسکراہٹ  سے  بولے :۔  مورکھ !!!انسان میں صرف  خود  پرستی  اور  خود ترسی  کا  ہی نہیں  خود  ملامتی  اور خود اذیتی کا مادہ  بہر حال موجود ہے ۔ جب  یہ  لیول خطرے کے نشان  سے  اکھ مٹکا  کرنے لگے تو اسے  ذلالت پرستی  کی انتہا کہتے ہیں۔اس  مرض کا مریض  جان بوجھ کر  ایسی حرکتیں اور "خرکتیں" کرتا ہے  تاکہ  جواباً اسے  جی  بھر کے ذلیل کیا جائے  اور اس  کی ذلالت پرست  حس  کو تسکین پہنچے ۔اگر مابدولت ان جاہل  گدھوں  کی باتوں  پہ ان کے حسبِ منشا  ردِ عمل  کا مظاہرہ کریں گے   تو مطلب ہوا کہ  میں اس کے اشاروں پہ ناچنگ۔۔۔۔۔۔ ترسانا  بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔۔۔۔  سمجھا  کر نہ یار ۔

  ہم سخن فہم ہیں غالب  ؔ کے طرفدار  نہیں۔۔۔۔ آہو

دو ہزار بارہ  کے رمضان  المبارک  میں  جس  دوستی کی بنیاد  پڑی  تھی ۔   اس دو ہزار  تیرہ  کے  رمضان المبارک  میں اس نے   ایک سال  بخیر و خوبی  پورا  کیا۔ بالکل جناب  ،  آپ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔اس قدر خوبیوں اور محاسن کے مالک سے دوستی کرنا یا دوستی ہو جانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔جیسے  فلسفے  میں پی ایچ  ڈی کر کے علامہ صاحب نے  "بالِ جبریل " لکھ ڈالی تو کیا کمال ہوا ۔ کئی کن  ٹٹے "علامے " تو ایسے بھی ہیں کہ بے شک ماضی مطلق مجہول کی گردان نہیں آتی اور نہ یہ  خبر  ہے کہ اِنّ ، انّ، کان، لیت ، لعل  مبتدا اور خبر  پر کیا عمل کرتے ہیں ، پھر  بھی  وہ  "بالِ عزرائیل "  یعنی  "موت  کا منظر ، مرنے کے بعد کیا ہوگا" جیسی کتابیں  لکھ دیتے ہیں۔
مجھے خدانخواستہ خفقان  نہیں، اگرآپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں تو واضح ہو جائے گا قاضی کے گھر کے چوہے سیانے  ہوں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں۔فلسفے  میں پی ایچ ڈی  کے بعد بال جبریل  کی تصنیف  کوئی بڑی بات نہیں۔اسی  طرح     اس قدر خوبیوں اور محاسن کے مالک سے دوستی کرنا یا دوستی ہو جانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ظاہر  ہے  اور بھی بہت سے لوگ موصوف سے  لنگوٹیانہ یاری  کے مدعی ہوں گے ۔اور  ہمارا  عقیدہ کہ "قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالب"۔۔۔۔پھر  یہ مذکورہ بالا   سطور  چہ معنیٰ  دارد۔۔۔؟؟؟
اب تک  کچھ عجلت  پسند  بزرگ  مجھ پر  خوشامدی  کا فتویٰ  لگا چکے ہوں گے ۔  مگر  واضح ہو کہ  
صادق ہوں اپنے قول  میں غالبؔ !خدا گواہ
کہتا ہوں  سچ  کہ جھوٹ  کی عادت نہیں مجھے
موصوف سے دوستی  کو اپنا طرہ امتیاز سمجھنے والے اور ہوں گے ۔۔۔ہم کو تقلید  تنک ظرفی منصور نہیں۔۔۔۔

کسی کی صفت  بیانی کی صرف ایک ہی وجہ تو نہیں ہوتی پیارے  لال۔۔!!! موصوف اس  ہیچمداں ، بندہ  ناداں کے پسندیدہ ترین مزاح نگار بھی   واقع  ہوئے ہیں۔لیکن آپ سوچیں  گے  مزاح نگار  ہونا  تو کوئی بڑی بات نہیں ۔۔۔۔  یقیناً  مزاح نگاری کا لیبل لگوا لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن  چھوٹے غالب  کا پسندیدہ مزاح نگار  ہونا  یقیناً  بڑی  اور بے حد  بڑی  بات ہے ۔  خاکم  بدہن میں بالواسطہ اپنی تعریف  کی راہ نہیں نکال  رہا ،  میں دراصل یہ بتانا چاہتا ہوں کہ  فدوی  تنقید  نگاری  میں "مولانا حالیؔ"کے سکول آف  تھاٹ سے  تعلق  رکھتا ہے ۔  اور یہ  بھی سب کو پتا ہے کہ فدوی  "حیوانِ ظریف " کی  شاگردی  کا بھی دعوے دار ہے ۔اور  ان دونوں عوامل کی  موجودگی  میں کوئی مائی کا لال   جوگی  کاپسندیدہ مزاح نگار  ہوجائے تو  یہ یقیناً  بہت بڑی بات ہے ۔
پس  ماننا ہی پڑے گا  کہ  بندے  میں دم ہے ۔  جس  قطار میں صرف پطرس  بخاری  ،  کرنل محمد  خان اور ابنِ انشا  جیسے   عظیم  مزاح نگار  ہوں   اس  قطار  میں اپنی جگہ  بنا لینا  نہ صرف ایک  بہت بڑا اعزاز  ہے ، بلکہ غالبؔ کے  مصرعے  کی حقیقت  بیان  کرتی  بین  دلیل  ہے ۔ اگر  نیرنگِ  خیال انسان ہے  تو  پھر یقیناً  ہر  آدمی کو میسر  نہیں انسان ہونا۔

بے شک آپ  کا مطالعہ بہت وسیع  ہے ۔ آپ کی  کتابوں  کی  الماری  میں کچھ نوادرات  بھی  موجود ہیں۔ 
لیکن!!!!!!!
اگر  اب تک  آپ  نے  موصوف کو نہیں پڑھا تو اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ۔ لٹر پٹر  اور الم  غلم  پڑھنا چھوڑئیے ،  نیرنگِ خیال کو پڑھیے۔

آپ کا حلقہ احباب  یقیناً  بہت وسیع  ہوگا ۔  بہت سے پہنچے ہوئے ، سلجھے ہوئے وغیرہ وغیرہ قسم کے دوستوں سے  آپ مالا مال ہیں
 لیکن  اگر  آپ  نیرنگ ِ خیال  کے دوست نہیں  تو آپ دنیا کے مفلس ترین آدمی  ہیں۔
مشورہ  مفت ہے سوہنا۔  
انکار  یقیناً  ابلیس  کے ہم خیال و پیروکار ہی کریں گے ۔۔۔۔۔ 

3 آرا:

  • 10 September 2013 at 10:05

    اب اگر میں یہاں یہ کہوں کہ تحریر بہت اعلی ہے تو غلط ہے۔۔۔ بھائی اعلی سے اوپر کی چیز ہے۔۔۔ لیکن چونکہ خاکسار کے بارے ہی ہے۔۔۔ تو اب یہ وہ کہہ کر بلاوجہ خود پر خودپرستی کا الزام لگانا بھی ٹھیک نہیں۔۔۔ حسن دیکھنے والوں کی آنکھوں میں چھپا ہوتا ہے۔ اور یہ خاکہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے۔ ڈھونڈنے والے خاک میں موتی تلاش لیتے ہیں۔ اور نہ ڈھونڈنے والے سونے کی کان سے مٹی سے پاؤں بھر کر آجاتے ہیں۔ یہ تیرا ظرف ہے جو تو نے اس حقیر کو اس قابل سمجھا اور جانا۔۔۔۔۔
    اب آجاؤں ذرا تحریر کی طرف ۔۔۔۔ یار اس جملے نے جتنا مزا دیا ہے۔۔۔ اللہ اللہ۔۔۔۔

    "جس قدر اوٹ پٹانگ آپ کا قلمی نام ہے اس سے کہیں زیادہ موصوف نستعلیق واقع ہوئے ہیں۔"

    یہ تو زندگی کا فلسفہ ہے بھائی۔۔۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے۔۔۔۔
    "ترسانا بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔۔۔۔ سمجھا کر نہ یار "


    ہاہاہاہہاہااااااا۔۔۔ کیوں ایسی عریاں حقیقت لکھ رہا ہے۔۔۔ پٹنا تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

    "یہ بھی ناقابل ِ یقین سہی مگر حقیقت ہے کہ حضرت وجوبی حالتوں میں بھی آپے اور جامے سے باہر نہیں ہوتے "

    اس قدر حسن ظن پر اب تیرا شکریہ نہیں بنتا۔۔۔

    "
    بے شک آپ کا مطالعہ بہت وسیع ہے ۔ آپ کی کتابوں کی الماری میں کچھ نوادرات بھی موجود ہیں۔
    لیکن!!!!!!!
    اگر اب تک آپ نے موصوف کو نہیں پڑھا تو اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ۔ لٹر پٹر اور الم غلم پڑھنا چھوڑئیے ، نیرنگِ خیال کو پڑھیے۔
    "

    اور مکمل تحریر تو بیان پر دسترس ہے۔۔۔۔۔ حسرت ہی رہے گی لگتا ہے کہ یوں روانی سے ہم بھی کبھی قلم چلائیں۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ برکت دے۔۔۔ :)

  • 10 September 2013 at 11:01

    چلو محنت وصول ہوئی
    حضرت نے اوکے قرار دے کر سرخرو کر دیا

  • 13 September 2013 at 11:34
    Anonymous :

    یہ رہا ایک نواں نکور نیرنگ ِ خیال۔۔۔۔۔مزے کی بات یہ کہ ہر قسم کے سالخوردہ بلکہ کِرم خوردہ "بابوں" کے اثرات سے پاک ۔۔۔ اتنا خالص ۔۔۔۔ جتنا ماں کا پیار ۔۔۔


    جس قدر اوٹ پٹانگ آپ کا قلمی نام ہے اس سے کہیں زیادہ موصوف نستعلیق واقع ہوئے ہیں۔

    چانکیائی بنیادوں پہ استوار گاندھی گیری کا ورلڈ فریب سنٹر اس "نین الیون"کے






    سامنے ریت کا بھدا سا تودہ نظر آتا ہے ۔ حضرت موہن داس کرم چند گاندھی جی کے پیڈسٹل پنکھوں ، بریکٹ فین، سیلنگ فین وغیرہ وغیرہ کو میری ان خرافات ہائے بے جا پر چیں بجبیں ہونے اور آگ بگولا ہونے بے شک پورا حق ہے مگر خدا لگتی کہتا ہوں گاندھی جی کا اونٹ اس کے ٹو(پہاڑ)کے نیچے کھڑا کے دیکھ لیں ۔ واضح ہوجائے گا کہ پنجاب کے اصلی دیسی گھی اور جنوبی افریقہ کے ڈالڈا میں کیا فرق ہے ۔۔۔



    اللہ جھوٹ نہ بلوائے میں نے اب تک گزری زندگی میں بڑے بڑے انٹارکٹکا آخر کارایک نقطے پہ پگھلتے دیکھے ہیں۔ سائبیریا کے آئس برگ بھی سرکتے سرکتے سرک جاتے ہیں۔جوگی صدقے جائے اس کوہ ہمالیہ کے جسے ہلانا ممکن ہے نہ پگھلانا ۔۔۔۔ ماشاءاللہ

    جوگی کی تحریر پر تبصرہ کرنا کوئی آسان نہیں ہے اور اگر تحریر ہو نیرنگ خیال کے بارے میں تو اور بھی مشکل کام ہے
    بہرحال تحریر کی تو جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کہ واقعی ذوالقرنین ایک ہمہ صفت انسان ہے اور جوگی کا جگری یار ہے تو واقعی بے مثال ہے کہ وہ ایسوں ویسوں کو دوست نہیں بناتا بلکہ بہت چن کر دوست بناتا ہے
    اللہ ان دونوں کی دوستی سدا سلامت رکھے اور ہر دن گزرنے کے ساتھ اس محبت میں اضافہ ہوتا رہے آمین

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما