Friday, 13 September 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ششدہم) ۔

3 آرا

دھمکی میں  مر گیا  جو نہ بابِ نبرد تھا


معاملہ  کچھ اس طرح بگڑا کہ شکیل صاحب اور ان کے  ہم خیال مولانا  صاحبان اور  حلقہ  ملنگاں  کے درمیان خوب ٹھن گئی ۔  اور مولانا پارٹی    اس تاڑ میں رہنے لگی کب انہیں  جوگی  اور وسیم کو رگیدنے  کا موقع میسر ہو ۔  اور یہ عرصہ  جوگی  اور وسیم نے اس طرح گزارا جیسے سرکس  کا بازیگر  رسے پر  سائیکل چلاتے  وقت  ،  اور  گنہگار پل صراط  پر  گزارتے ہوں ۔اور مصیبت پہ مصیبت  یہ  کہ  کسی  بھی جوابی کاروائی کیلئے جوگی کمپنی  کو  بالواسطہ  طریقہ اپنا  نا  پڑتا تھا ۔اور قسمت  سے  اگر  کوئی موقع  ہاتھ آجاتا تو  چوکتے نہ تھے ۔ ایک بار شکیل احمد صاحب  نماز  کے فضائل پر اسمبلی ہال  میں درس دے رہے تھے  اور جب وہ  باجماعت نماز  کی  حکمت اور ثواب کا  خشوع  و خضوع  سے بیان فرمانے  لگے تو  وسیم نے  کھڑے ہو کر  کہا:۔ ایمان  کی  امان پاؤں تو کچھ عرض کروں ۔؟  شکیل صاحب اور ہمنوا چوکنے ہو گئے  کہ راکٹ فائر ہونے والا ہے مگر  تمام طلبا  ء اور  اساتذہ  کی موجودگی میں سوال کی  اجازت بھی (مارے باندھے) دینی ہی پڑی ۔ سوال تھا  کہ کیا  باجماعت نماز  کی حکمتیں اور ثواب سب  کیلئے ہے یا کچھ لوگوں کو استثنا  بھی حاصل ہے ۔؟ شکیل  صاحب سوال کے پس منظر کو سمجھے بغیر فوراً  کلف لگے لہجے  میں بولے :۔ ہاں  ! یہ  سب  کیلئے ہے اور اسلام  میں کسی  کو استثنا   ،یا تخصیص  حاصل نہیں۔    پھر وسیم کی طرف دیکھ کر  طنزیہ انداز میں واضح کیا  کہ :۔ "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔"اور وسیم نے اگلا  فائر  کیا :۔ "مگر  ایک  کنفیوژن  ہے ۔  تپتی  دوپہر  میں ظہر  کے وقت جب سب لوگ یہ  حکمتیں اور  ان کے ثواب سے جھولیاں  بھرنے مسجد میں جاتے ہیں تو   آپ اپنی  قیام  گاہ  میں ہی  جائے  نماز بچھا  لیتے ہیں ۔"شکیل صاحب حتی الامکان  شائستگی سے غرائے :۔ "کوڑھ مغز ! تمہیں کیا معلوم  ،  ہم چار  لوگ  وہیں  اپنے  کمرے میں ہی جماعت کا اہتمام  کر لیتے  ہیں۔ " وسیم کا منہ پھٹ ہونا سب  کو معلوم  تھا  مگر  اب جو غوطہ  وسیم نے دیا شکیل صاحب کو بھی پسینہ  آ گیا ۔"آپ  چند قدم  چل  کر مسجد  میں باجماعت نماز پڑھنے نہیں جاتے ۔ بلکہ اپنے کمرے میں  ہی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں جس کی نفری  اکثر اوقات امام  صاحب کے  علاوہ  صرف ایک مقتدی  ہوتی ہے ۔ تو کوئی کیسے  نہ سمجھے کہ آپ  کو  غلام  محمد صاحب  کی اقتدا میں نماز پڑھنا گوارا نہیں یا    آپ  حسبِ  سابق  اسلام  میں تقسیم در تقسیم اور ڈیڑھ اینٹ کی ذاتی مسجد اورذاتی  فقہ  کی روایت  کے مقلد  ہیں۔؟" اس قدر  جارحانہ  حملے  پر جوگی  اور وسیم کے  علاوہ سب  سکتے میں رہ گئے  ۔  شیر محمد  صاحب نےاپنی پیٹی بھائی  کو   بر وقت کمک پہنچا ئی اور شکیل صاحب نے مولویوں والی روایتی تعلیل  بازی  کی پٹاری کھولی ۔ اورکسی قدر طنزیہ  لہجے میں  قرآن  مجید میں سے بدگمانی  سے بچنے اور حسنِ ظن  سے متعلقہ آیات کی تلاوت فرما کر  دو  نمازیوں  کی  جماعت کی تعلیل یہ پیش کی  :۔"چونکہ ہم  مسافر ہیں اور جماعت کے ساتھ مقیم والی  نماز پڑھائی  جاتی ہے ۔ اس لیے ہم  اپنے کمرے میں نمازِ قصر کی جماعت کھڑی کر لیتے ہیں ۔"مگر  وسیم  کی الجھن  بدستور قائم  تھی  کہ  فجر ،  عصر اور  مغرب  کی نمازیں  آپ مسجد  میں  سب کے ساتھ  جماعت میں ادا کرتے ہیں تو   کیاصرف  ظہر  اور عشا ء  کی  نماز کے وقت آپ  مسافر ہوتے ہیں۔۔؟؟؟؟   اس  کے جواب  میں وسیم کو زبردستی  بیٹھنے کا حکم دے کر  شکیل  صاحب نے فاتحانہ  نگاہ  سارے ہال پر ڈالی اور پوچھا کسی اور کی کوئی الجھن ہو تو وہ  سوال کر سکتا ہے  اور پورے ہال میں صرف ایک ہی ہاتھ کھڑا ہوا ۔  جو ظاہر ہے جوگی  کے علاوہ کس کا  ہو سکتا  تھا۔شکیل صاحب نے نہ چاہتے ہوئے بھی برا سا منہ بنا کر  جوگی کو سوال کی اجازت دی۔    جوگی کا سوال تھا  کہ  اگر  آپ کی تعلیل کو درست مانا جائے جو کہ  یقیناً درست ہے  تو اس ہال  میں بیٹھے ہوئے کم از کم دو تہائی طالب علم  بھی شرعاً  مسافر  ہی   ہیں ۔ لیکن حقیقت  یہ  ہے  کہ اگر کوئی  طالب  علم جماعت  کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ  جائے تو اسے صبح اسمبلی  میں  سب کے سامنے گدھے  کی طرح تشدد کا نشانہ  بنایا  جاتا ہے ۔اگر  اسلام میں کوئی  تخصیص اور استثنا  نہیں تو  یہ سب کیا کہلائے گا ۔۔۔؟؟  تانا شاہی  ۔۔۔؟؟  یا  ۔۔۔۔؟؟؟
شکیل صاحب  نے  تو لاجواب  ہو  کر  بولنے سے  انکار کر دیا  مگر  چونکہ عزت کا  سوال  تھا  اس لیے مولانا  شیر محمد نےپہلے تو اساتذہ  کے سامنے   اس طرح زبان چلانے  پر  ایک  ہجویہ وعید  بیان فرمائی  اور کہا کہ فقہ کی دو چار کتابیں  پڑھ لینے سے اپنے آپ کو علامہ سمجھ کر  محترم  اساتذہ کرام سے  بے مقصد بحث کرنے والے جان  لیں کہ  علم فقہ  کی رو سے  شرعاً  مسافر  بھی اگر  کسی  جگہ پندرہ دن قیام  کی نیت  کر کے مقیم ہو  تو  اس کیلئے  سارے  احکام  مقیم والے ہیں۔ لیکن اگر  شرعی مسافر کسی  جگہ  پندرہ دن قیام کی نیت کیے بغیر  چاہے سال بھر بھی  مقیم رہے تب بھی اس پر سب احکام مسافر  والے لاگو ہوں گے ۔ آپ لوگ چونکہ طالب  علم ہیں اور آپ کو  چھٹی بھی  دو  ہفتے بعد  ہوتی  ہے ۔ اس  کا مطلب ہے  تمام طلباء  پر  مقیم والے احکام  لاگو ہیں۔"لیکن  جوگی  کے ترکش  میں ابھی تیر  باقی تھے ۔  لہذا  مزے بولا:۔ "چھٹی تو واقعی  تمام  ادارے  کو دو ہفتے بعد ہوتی ہے ۔ ظاہر  ہے اساتذہ  کو  بھی ۔  اس کا مطلب ہوا کہ    چھٹی کا  شیڈول  معلوم  ہونے کے باوجود  بھی کچھ لوگ   محض دو رکعت نماز سے بچنے  کیلئےپندرہ    روزقیام کی نیت نہیں کرتے ۔یقیناً وہ لوگ قابلِ تحسین ہیں۔ اور ان  پر انگلی اٹھانا آخرت کی بربادی کا باعث ہوگا ۔"اس بات پر  ہال میں موجود  متاثرین کے علاوہ  تمام   اساتذہ  اور طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔وسیم  نے  ٹکڑا لگایا :۔سمجھا کر  ناں یار "اعمال  اور ان کی جزا کا دارومدار  نیت  پر ہے ۔" اس پر  کسی  منچلے نے جوش میں آ کر    نعرہ ءِ  تکبیر   بلند کیا  اور ہال اللہ  اکبر  کی صدا سے گونج اٹھا ۔

جاتی ہے کشمکش  کوئی اندوہِ عشق کی ؟


اس غدر  کے بعد   متاثرہ پارٹی نے سختی سے  جوگی اور وسیم کی اثر پذیری  اور طلباء میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کچل دینے کا فیصلہ کر لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب  ہوسٹل  وارڈن منظور احمد صاحب استعفیٰ  دے کر  جا چکے تھے ۔  اور ہوسٹل  انچارج  کی ڈیوٹی  اساتذہ  کی ذمہ داری قرار پائی تھی ۔  ہوسٹل  کا چارج  ہاتھ آتے ہی سب  سے پہلا کام مولانا  صاحب نے  وسیم اور جوگی  کو  الگ کرنے کا کیا ۔  وسیم کا بوریا بستر  گول کروا کے  دوسری منزل پہ  بھیج   دیا گیا ۔  اور جوگی کو گراؤنڈ فلور  پر  رہنے کا پابند  کرکے سمجھ لیا گیا کہ  خطرہ  ٹل گیا ۔  لیکن  یہ صرف خام خیالی  تھی ۔
اہل ِ تدبیر  کی و ا ماندگیاں
آبلوں پر  حنا باندھتے ہیں
جوگی  نے ایک غیر سیاسی  اور غیر مذہبی  تنظیم"ڈان"(ڈی اے  ڈبلیو  این) کی داغ بیل ڈالی ۔  اس  کا  مقصد  اور منشور نظریات ہائے کہنہ  کی اندھا دھند تقلید  اور لکیر کی فقیری کی حوصلہ  شکنی اورجہانہائے نو  کی  تلاش  میں  پیش آمدہ  تجربات  پہ  تبادلہ  خیال اور ایک دوسرے کی  حوصلہ افزائی  تھا ۔ دو  اراکین  سے  اس  انجمن کا آغاز  ہوا لیکن   جوگی اور وسیم کو الگ  کرنے کی ہرکوشش اس  انجمن کے اراکین  میں اضافہ پر منتج ہوئی ۔    
پہلے  تو جوگی اور وسیم کی شر انگیزیاں صرف ایک کمرے  تک محدود  تھیں اب تو  یہ شر مزید  پھیلنے لگا ۔ جوں جوں کمرے تبدیل  ہوتے گئے  جوگی اور وسیم  کے  نظریات اور خیالات  عام ہوتے گئے ۔  سارا دن تو ساتھ ہوتے  ، عشاء کی نماز کے بعد    سے صبح کی نماز  تک کی جدائی جوگی اور وسیم کے حلقہ احباب میں وسعت کا باعث بنی ۔اور آخر کار  جب کسی  طرح کچھ ہاتھ نہ آیا تو ایک  بار پھر  جوگی اور وسیم کو ایک ہی کمرہ  الاٹ ہوا۔
عصر  سے  مغرب  کے درمیانی  وقت میں کھیل کے میدان سجتے تھے ۔  مگر  نہ تو جوگی کو  کسی کھیل میں دلچسپی تھی  نہ ہی وسیم کو  ۔ دو کلو مونگ  پھلیاں  سامنے رکھ کے  ان کی محفل  سجتی ۔ جہاں  دنیا جہان  کے موضوعات پر  سیر حاصل تبادلہ  خیال  کیا  جاتا  اور اتنے طالب علم کرکٹ میچ  دیکھنے والے نہ ہوتے جتنے جوگی اور وسیم کی  گپیں سننے والے ہوتے ۔مخالفین نے  اوپر  تک یہ اطلاع پہنچائی  کہ  یہ دونوں نہ توخود کھیلتے ہیں نہ ہی کسی  کو کھیلنے  دیتے ہیں۔ جبکہ  کھیل طلباء  کی ذہنی اور جسمانی  صحت کیلئے نہایت ضروری  ہیں۔لہذا اوپر سے حکم آیا  کہ تمام  طلبا کا کھیل کے میدان  میں  ہونا  لازمی  ہے۔گپ شپ  کیلئے  مغرب سے عشاء کا درمیانی وقت بہت ہے  ۔اس نئے  قاعدے  کے تحت عصر سے مغرب کے  درمیان ہوسٹل  کے اندر یا اندرونی  احاطے  میں نظر آنے والا ہرطالب  علم  سزا  کا مستوجب  قرار  دیا گیا۔  
 

3 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما