Wednesday, 21 May 2014

بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔۔(3)۔

4 آرا

(گزشتہ سے پیوستہ)



ہمیشہ  کی طرح دن طلوع ہوا ۔ بدھ کا دن تھا ۔  11  جمادی الاول اور 12 مارچ 2014  تاریخ تھی۔  صبح  بھائی  آئے تو  ان سے پوچھا  آج کیا دن ہے؟ انہوں نے جواب دیا آج بدھ ہے۔
اطمینان سے بولے :۔"الحمد اللہ  اج میڈے ڈُکھ مُک گئے"(الحمد اللہ آج میرے دکھ ختم ہو گئے)
اتنے  اشارے ہمارے لیے کافی تھے ۔
آج کے دن اہتمام یہ تھا  کہ انہوں نے روک دیا کہ کوئی میری  چارپائی پہ نہ بیٹھے ۔ اور کوئی دروازے کے سامنے  بھی کھڑا نہ ہوا۔ اور  وہی وقفے وقفے سے ہاتھ باندھ کے اٹھ بیٹھنے والا معمول بھی جاری تھا۔
(چچا  اور ان کی آل اولاد کو  معلوم نہیں تھا کہ کینسر  کے مریض ہیں، اس لیے ان کا مسلسل اصرار  جاری تھا کہ فلاں ہسپتال میں چلتے ہیں یا پھر فلاں ڈاکٹر کو گھر بلا لیتے ہیں۔)
بدھ کے دن صبح  ناشتے کے فوراً بعد چچا اور چچا زاد بھائی  آئے توہنس کر انہیں فرمایا آپ بھی اپنا شوق پوار کر لیں ۔ بلا لیں ڈاکٹر کو ۔ڈاکٹرکو بلا لایا گیا۔  اس نے آتے ہی  پیٹ پہ ہاتھ رکھا  اور بتایا کہ  جگراپنی جگہ پہ محسوس  ہی نہیں ہو رہا ۔ اس کے بعد اس  نے ابا جی  کو تسلی دی تو  ابا  جی ہنس پڑے ، اور بولے  ڈاکٹرز  کی تو عادت ہوتی ہے۔
اسی دوران  باہر  سے اباجان کے پیر بھائی  اور  ریٹائرڈ پی ٹی ماسٹر(جو اباجان کے ہم نام بھی ہیں مگر پورے علاقے میں استاد پی ٹی صاحب کے نام سے مشہور ہیں) کے آنے کی اطلاع ملی۔ ابا جان نے مجھے باہر بھیجا  کہ  پردہ کروایا جائے  اور انہیں اندر بلایا  جائے میرے پاس ۔  ناشتے کا وقت تھا۔ اس لیے پردہ  ہونے میں کچھ دیر تھی ۔ میں باہر انہیں  بتانے  گیا تو انہوں نے  مجھے ایک واقعہ سنایا۔
پی ٹی صاحب  کے مطابق:۔  تقریباًڈیڑھ  دو ماہ قبل  ایک ملاقات میں آپ  کے  ابا جی نے  مجھ سے فرمایا:۔ "پی ٹی صاحب  مجھ سے ایک وعدہ  کریں۔" میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیسا وعدہ۔؟ تو بولے:۔ "میرا وقت اب قریب آ گیا ہے ، اور  میں چاہتا ہوں  کہ میرا جنازہ  میرے  پیر صاحب  (غزالی زماں  رازی دوراں  حضرت  علامہ احمد  سعید کاظمی  شاہ صاحب  رحمۃ اللہ علیہ) کے صاحبزادگان  میں سے  کوئی پڑھائے ۔ " میں نے  از راہ مذاق  کہا  کہ  وقت کا کیا بھروسہ ، ہو سکتا ہے  آپ سے پہلے میرا وقت آ جائے تو  فرمایا کہ  یہی وعدہ  پھر آپ  کے حق میں ہم پورا کر یں گے۔اور  پھر فرمایا کہ  میرا جنازہ  سید سجاد سعید  کاظمی شاہ صاحب  پڑھائیں  گے۔ "اب ہم  ان سے رابطے  کی کوشش میں  ہیں۔ لیکن  انہوں  نے  اس سلسلے  میں معذرت  کی ہے  کہ  کل  اور پرسوں کا دن  انہیں فرصت نہیں۔  سجادہ نشین  پروفیسر  سید مظہر سعید کاظمی  شاہ صاحب  یا سید  ارشد سعید  کاظمی شاہ صاحب  سے درخواست کی جا سکتی ہے اور  وہ  ٹائم دے دیں گے۔
اسی اثنا میں اندر پردہ بھی ہو گیا ، اور پی ٹی صاحب  آخری ملاقات  کےلئے اندر تشریف لائے ۔ اباجی  سیدھے  لیٹے ہوئے تھے ، پی ٹی صاحب  معانقے  کی صورت میں  ان کے سینے سے لگے اور  کافی دیر تک پر جھکے رہے۔  ابا جی نے پہلی بات  یہی  کی کہ "سائیں اج  یارھاں  طریق  اے، وعدہ یاد ہے ناں"(سائیں آج گیارہ تاریخ ہے ۔ آپ کو اپنا وعدہ  یاد ہے ناں؟) پی ٹی صاحب نے  تسلی دی اور کہا کہ جی بہت اچھی طرح یاد ہے ۔اور  اس کے بعد وہ چند منٹ بیٹھے ، پھر  چلے گئے۔

ان  کے جانے کے  بعد ابا جی نے کہا کہ   مجھے  رفع حاجت کیلئے سہارا دیا جائے۔ ہم سب حیران کہ  پورے ایک  ہفتے  سے آپ کی  خوراک  سوائے  آب زم زم   کے چند قطروں  کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کے باوجود آپ  نے کل جلاب لینے پر اصرار کیا تھا ۔ بولے  میں  چاہتا ہوں کہ معدہ اچھی طرح صاف ہو جائے ۔ کرسی اور کموڈ لا کر  رکھ دیا گیا۔ اماں جان کے علاوہ سب کمرے سے نکل گئے ۔ لیکن دو منٹ بعد اماں  جی باہر آئیں  اور کہا کہ  مجھ اکیلی سے سہارا دینا مشکل ہے۔ فدوی  کو اپنے  ہٹے کٹے  گھبرو جوان ہونے کا زعم تھا۔  میں نے  کہا  کہ آپ جائیں  میں سہارا دیتا ہوں۔ اور  خاکسار  جو کہ  ایک  ڈیڑھ من کی  بوری  آرام سے  اٹھا  کے کندھے پہ رکھ لیتا ہے ، 71 سال  کے نحیف  و نزار  ابا جی جو کہ صرف ہڈیوں  کا  ڈھانچہ  لگتے تھے ،  اکیلے اٹھانا  تو دور سہار دے کر بٹھانا  دو بھر ہو گیا۔  میں  نے اپنے  بڑے بھائی  سید جنید حسنین بخاری کو مدد کیلئے بلایا ۔ اور  ہم دونوں بھائیوں  نے بمشکل  سنبھال کر  انہیں کرسی پر  بٹھایا ۔ 
فراغت کے بعد   انہوں نے فرمائش کی  کہ  میرا لباس تبدیل کر وایا جائے ۔   ان کیلئے  نیا  سفید  تہمد  اور  نیلے رنگ کی قمیض  لائی گئی ۔  لباس کی تبدیلی کے بعد   ہمیں باہر بھیج دیا گیا۔  کچھ دیر  بعد اماں  جان نے ایک  بھائی کو اندر بلایا ۔  اس کے بعد  جب وہ باہر آئے  تو  میرا بلاوا  آیا۔  میں  اندر گیا  تو ابا  جی نے سہارا دے کر بٹھانے کو  کہا ۔ جب بیٹھ گئے  تو  مجھ  سے  وہ باتیں کیں  جو شاید  ہم باپ بیٹا   صرف  دل میں  سوچا کرتے تھے ۔  مجھے  دنیا کی بے ثباتی  اور  رشتوں  کی نزاکت  کے بارے میں بات کرتے رہے ۔ اور فرمایا  کہ   تمہاری  شادی  کا فرض میں  پورا نہیں کر سکا ۔  ایک تو  حج یا عمرہ  اور دوسرا تمہاری شادی ،  یہ دو کام میں ادھورے چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اس کے بعد  مجھے  دعائیں دیں اور فرمایا  "ٹور  ، ٹوریں  ، اللہ سائیں رنگ لیسی"۔ میرے منہ سے بمشکل اتنا نکلا  کہ  اللہ برکت دے تو  یہ کم نہیں۔(اس کے علاوہ  کچھ باتیں  ایسی ہیں  جو کہ  صرف ہم باپ بیٹا  کے  درمیان  کی باتیں ہیں، اور اس وقت صرف اماں جان موجود تھیں ) 
اس کے بعد  سب  کو  ایک ساتھ بلایا  اور  سب کو  نصیحت  کی  جو کہ  وہ  پہلے بھی  اکثر و بیشتر  کرتے رہے تھے ۔  آپس میں اتفاق سے رہنا ۔ میرے بعد اماں کا خیال رکھنا ۔  اویس  تم سب میں سے  چھوٹا  ہے ۔  اس کا خیال رکھنا ۔  امید کرتا ہوں  کہ ہمت اور حوصلے سے رہو گے ،  رونا پیٹنا اور  جاہلوں والی حرکات  نہیں کرو گے۔  مجھے غسل  میرے  اپنے بیٹے  دیں۔  میرا جنازہ  بھی  میرے چاروں  بیٹے  اٹھائیں ۔ (پانچویں کا نام  نجانے انہوں  نے  کیوں نہیں لیا) کوشش کرنا  کہ میرے  تمام  مریدوں  تک اطلاع پہنچ جائے  اور  جنازے کا وقت  ایسا  رکھنا  کہ دور  والے بھی آسانی سے شامل  ہو جائیں۔انشاءاللہ میرا جنازہ سید  سجاد  سعید  کاظمی  شاہ صاحب  پڑھانے تشریف لائیں گے۔
(چپ ہو گئے)
سب  چپ چاپ  آنسو پیتے سن رہے تھے ،  جو برداشت نہ کر پائے  وہ باہر  نکل گئے ۔ایک  شاید فدوی ہی  سخت  دل   والا  واقع ہوا  ہے یا اللہ  کی مہربانی  سے بر وقت خیال  آ گیا۔  میں نے  اس وقت  پائنتی  کی طرف کھڑا تھا ۔ میں نے  کہا کہ  دعا فرما دیجیئے۔اونچا سنتے تھے  اس لیے دوبارہ پوچھا  کہ کیا  کہا؟۔  اماں  نے کہا  کہ دعا  کیلئے  درخواست کی ہے ۔  ابا  جی  نے جھٹ  سے ہاتھ اٹھا دئیے۔  اس  کے بعد  مجھ سے شروع ہوئے  پھر ہر ایک بیٹے  بیٹی  ان کی اولادوں کا نام لے لے کر دعا کی۔  اس کے بعد  مریدین  کیلئے دعا فرمائی ۔  حتیٰ کہ  ان کیلئے  بھی  جو  جنازے  میں شریک ہوں ۔
(بعد میں  باہر آ کر  سب نے میرا شکریہ  ادا کیا  کہ تمہیں  بروقت دعا کا خیال آ گیا ۔ ورنہ  ہم تو  گنگ کھڑے تھے۔)
پھر بڑے  بھائی  کو  قریب بلایا ۔ سید حسنین بخاری  قریب گئے ۔  مجھے  کہا کہ  اٹھا کر بٹھاؤ۔ میں نے سہارا دے کر بٹھا یا۔  ابا جی  بھائی سے   کہا  تم  بڑے ہو ،میری پگ(پگڑی)  تمہارے  سر پہ آئے گی ، اس کی لاج رکھنا ، تم بڑے ہو  ، یہ سب چھوٹے  ہیں ، ان سے محبت اور  حسن سلوک  سے پیش آنا ، امید کرتا ہوں  کہ یہ  بھی  تمہیں  بڑا سمجھیں گے۔  قل خوانی  اور دیگر  رسومات  میں  دکھاوا  ہر گز نہ کرنا ۔  قرض  لے کر  نہ کرنا ۔  جو کچھ موجود  ہو بس اسی  سے  کام چلا لینا۔ "ٹوٹ پُنے"(جاہلوں  والی حرکات) نہ کرنا ۔  میری  قل خوانی کا اہتمام  کھلے  ماحول (اوپن ائیر) میں کرنا ۔ کسی کو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ اور اویس کا فرض  میں نہیں اتار سکا ،  اس کی ذمہ داری اب  تمہارے سر  پہ ڈالتا ہوں ۔ 
(اس کے بعد  لیٹنے کیلئے  اشارہ کیا۔ میں نے لٹا دیا۔  )  


(جاری ہے)

4 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما