Monday, 26 May 2014

ایک تھے مرزا جی۔۔۔۔۔۔

10 آرا
بندہ جائے  تو جائے کہاں ۔۔۔۔؟؟؟؟
ذرا سی وضاحت سے لکھ دوں  تو  یار لوگ کہتے ہیں  :۔ "اپنی معلومات  کا رعب جھاڑ رہا ہے دیکھو۔"  اجمالی اجمالی  لکھوں توکچھ  دل جلے کہتے ہیں:۔"اردو کی ایک کتاب کیا  پڑھ لی خود کو  علامہ ہی  سمجھنے لگے ہیں"۔ 
مثال کے طور پر  اگر میں کہوں کہ :۔ "ایک  تھے  مرزا جی۔۔۔۔" تو کسے سمجھ آئی ؟؟؟  کون تھے مرزا جی۔۔۔؟
دیکھئے  ذرا جتنے منہ  اتنی باتیں۔۔۔۔۔
ایک یہ صاحب ہیں۔۔۔بے شک الف بے  بھی  پوری نہیں آتی لیکن اپنے تئیں  غالبیات  کا ماما  اور  خلیفہ مجاز  سمجھتے  ہیں۔ دیوان  غالب کو ان سے  اجازت لیے بغیر  پڑھ لیا جائے تو  مکروہ تحریمی  اور بعض صورتوں  میں گناہ کبیرہ  بھی ہوتا ہے۔  اس  پس منظر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا  کہ  جیسے  ساون کے اندھے کو ہرا  ہی  سوجھتا ہے  اور  صحرا  میں پیاسے کو  ریت پہ بحرالکاہل  دکھائی دیتا ہے ۔ ویسے  ہی ان  کے نزدیک پوری دنیا میں لفظ  مرزا  سے مراد صرف اور صرف  مرزا اسد اللہ  خان غالب  ہی  ہوتے ہیں۔
اور  یہ جن  صاحب نے مرزا جی  سن کرنہ صرف منہ بنالیا بلکہ کچھ بڑبڑا بھی رہے ہیں۔حیران نہ ہوں  بلاوجہ منہ نہیں  بنایا ۔  اور پریشان بھی  نہ  ہوں کہ شاید  کوئی جنتر منتر  پڑھ رہے ہیں۔ دراصل "لاحول" کا ورد جاری ہے۔ حیرت ہے کہ  ان کی نمائشی  داڑھی  اور  ماتھے  پہ داغ سجدہ  دیکھ کربھی آپ کو وجہ سمجھ نہ آئی۔ان کے نزدیک  مرزا سے مراد  صرف  مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔
یہ چشمش  سے حضرت  تاریخ کے کیڑے ہیں ، لہذا مرزا سے مراد مرزا فخرو ہیں۔
یہ جو پڑھاکو سے  ادبی صاحب کے  چہرے پہ  مرزا جی سنتے ہی  مسکراہٹ دوڑ گئی ہے۔ میرے ہونق پن پہ نہیں  بلکہ  کسی اور وجہ سے مسکرا رہے ہیں۔ ہو نہ ہو  انہیں کرشن چندر کا دودھیا افسانہ "مرزا کُپی"  یاد آ گیا ہے ۔ ورنہ  بقول غالب :۔سبب کیا تبسم ہائے پنہاں کا۔۔۔۔؟
ارے نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔ان صاحب سے پوچھنے کی زحمت نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ یہ حضرت تو  نام کے ہی نہیں ذات کے بھی عاشق  ہیں،  مرزا جی سے مراد  اپنے 
پیرو مرشد  سائیں مرزا جٹ المعروف  تیر کمان والی سرکار  ہی مراد لیں گے۔


کر لی نہ تسلی۔۔۔۔؟؟؟ ہو گیا اطمینان۔۔۔؟؟؟


میری  بے چارگی کا  تھوڑا بہت  اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ وضاحت کے بغیر  کوئی چارہ  نہیں فدوی  کے پاس ۔ حتیٰ  کہ بھائی چارہ بھی نہیں۔۔۔۔۔

جس طرح   ہیں اور بھی دنیا میں  سخن  ور بہت اچھے ، اسی طرح مذکورہ بالا تمام مرزاؤں کے  علاوہ  بھی  دنیا میں ایک قابل ذکرمرزا  پائے  جاتے ہیں۔  جلد باز حضرات پچھلا جملہ دوبارہ غور سے  پڑھیں ۔  قابل ذکر لکھا ہے  قابل فخر نہیں  ۔بعض زیادہ پڑھے لکھے شاید قابل ذکر سے  انہیں قابلی  چنے یا قابلی ڈیموں(بھڑ) قبیل کی  کوئی قابلی  چیز سمجھ لیں ، بروقت  یہ غلط فہمی بھی دور کر دوں تو بہتر رہے گا۔
مرزانہ صرف  ضعیف الاعتقاد ہیں بلکہ  سریع العناد  بھی  واقع  ہوئے ہیں۔  بے شک  سو فیصدی  مرزا  ہیں  لیکن  مزاج   شریف   امرتسر  والوں  کا  ساہے۔ کسی بات پہ  اڑ گئے  توپھر بے شک زمین  جنبد  مگر مجال ہے  جو گل محمد  بھی جنبش پذیر ہو۔۔۔
جنبش سے یاد آیا ایک  بار  قضائے  الٰہی سے انہوں  نے  غزل سن لی ۔  "زحال مستی مکن برنجش" بس پھر کیا تھا  "برنجش" کو "بجنبش" سمجھ بیٹھے ۔  سادہ دل آدمی تھے فوراً ایمان  لے آئے ۔  بہتیرا سمجھایا  کہ  آگے بھی  کچھ غزل ہے ۔ فریفتہ  لہجے میں بولے :۔ "ہونہہ جانے  دو میاں ! بھلا  گنوار  جوگی کیا جانے  ٹھرک  و  عاشقی  کی رمزیں۔ جب ایک جوان جہان  خوش آواز حسینہ  کہہ رہی ہے کہ "زحال مستی مکن  بجنبش" تو پھر کوئی پتھر دل  ،کور ذوق  ہی ہوگا  جو حکم نہ بجا لائے گا۔
ماتھا پیٹنے  کی شدید ترین  خواہش کو   ملتوی  کر کے  میں نےتفصیل  سے سمجھانے  کیلئے منہ کھولا تو  ہاتھ اٹھا کر  حتی الوسع  گرجدار  آواز میں بولے :۔"بس ایک بار کہہ دیا  سو کہہ دیا ۔  مزید کان کھانے  کی کوشش کی  تو  میری دوسری سوئی  بھی اٹک جائے گی۔"میں  نے  مجذوب کی بڑ سمجھ کر  فوراً  دوسرے کان سے اڑائی  اور جونہی منہ کھولا، تو  موصوف کی دوسری  اور تیسری سوئی  یکبارگی  اٹک گئیں ۔ ایک بار پھر دھاڑے :۔ نہیں باز  آئے نہ ۔ اب بھگتو۔ "مکن بجنبش" تو  پھر بھی کچھ دور ہے  ۔ اب میں "زحال"سے آگے  نہیں بڑھنے کا۔کر لو جو کرنا ہے۔"اور  بقول اکبر الٰہ  آبادی :۔  کر ہی کیا  سکتا تھا بندہ کھانس  لینے کے سوا۔۔۔۔
صرف اسی پر  بس نہیں فوراً اخبارات میں   اور انٹرنیٹ پر  ہر جگہ  اشتہار دے دیا کہ "والدین کی  غلط فہمی کی وجہ سے  میرا نام زبیر مرزا  ہو گیا تھا۔لیکن اب ایک خوش آواز  حسینہ کی مستند حوالوں سے دی گئی گواہی سے ثابت ہوا  کہ ہمارے لیے موزوں ترین نام  "زحال مرزا" ہے  ۔ آئندہ  مجھے اس نام سے لکھا اور پکارا جائے ۔ البتہ  ریکارڈ میں تااشتہارِ ثانی  درستگی مت کی جائے ۔"(اس پخ  کی خاکسار  کے  نیرنگ خیال  میں یہ وجہ ہو سکتی ہے  کہ کیا معلوم  کب  ان کی اٹکی سوئی  چل پڑے  اور بدھو کا  واپس گھر لوٹنے  کا پروگرام بن جائے  تو  ریکارڈ کا سہارا لیا جا سکے ۔)میں تو ٹھہرا  بونگا  سا بندہ مگر جب  چھوٹے غالب  نے مذکورہ اشتہار پڑھا تو ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا۔ وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا  کہ "زحال مرزا" کا  مطلب ہوا   "مرزا حال سے ہیں" کیا ہی اچھا ہوتا  اگر  مرزا اپنانام  "زامید مرزا"(مرزاامید سے ہیں) رکھتے ۔تو ہم بھی  جینیاتی سائنس  اور  ڈارون  چاچو کو  ٹھینگا دکھا سکتے ۔ "میں  نے لاحول  ولا  تو بہت پڑھا  پھر بھی  بے اختیار  امڈنے  والی ہنسی پر  قابو نہ پا سکا۔
مرزا  بھی کیا  سادہ ہیں، جس کے سبب  زحال ہوئے
اسی  لتاں  منگیشگر  کی  غزلیں اب بھی  سنا کرتے ہیں
پہلی  بار  ان کی تصویر دیکھ کر  نون بھڑک گیا:۔  جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے یار۔  رہتے  صومالیہ میں ہیں اور رعب ڈالنے  کو مشہور کر رکھا ہے  کہ امریکہ  میں رہتا ہوں۔"
رقیق  الصحت تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ  انہیں سنگل پسلی    سمجھا جائے ۔  البتہ اس بارے چھوٹا  غالب کا شہرت یافتہ قول ہے  کہ:۔ "لوگ عقل سے پیدل ہوتے ہیں اور مرزا  صحت  سے پیدل ہیں۔" ۔۔۔۔ "بعض لوگوں کی  واجبی صحت  ہوتی ہے جبکہ مرزا  کی  فرضی صحت ہے۔"مرزا جی  نے یہ سنا تو متانت سے  تبسم  فرمایا اور بولے :۔"حاسدین  میری  سمارٹنیس  سے  جلتے ہیں۔ میں  بھلا کوئی  ذوالقرنین ہوں  کہ منوں  کے حساب  سے  چربی  اٹھائے  پھروں ۔ ویسے  بھی میں نے کونسا جاپان  جا کر  سو مو کشتی کی چیمپئن  شپ جیتنی  ہے۔ " مرزا جی  کہ اس حکمت بھری بات  سے جہاں خاکسار  کی غلط فہمی دور ہوئی  وہیں ذوالقرنین  کے مستقبل  میں پہلوانہ  ارادوں  سے  بھی آگاہی ہوئی۔

اخلاق   توان میں  کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،کیا  دوست  کیا حاسد سبھی  ان کے حسن اخلاق  کے معترف ہیں لیکن  اس اعتراض کے ساتھ کہ مرزا  اس  معاملے میں  مساوات  کے قائل  نہیں ۔  ایسا لگتا ہے  کہ حسنِ  اخلاق  کے جملہ حقوق صنف نازک  کیلئے محفوظ ہیں۔ جب مرزا جی توجہ اس صنفی دھاندلی  کی جانب  دلائی گئی اور  اخلاقی عدم توازن  پر  انہیں  خوف خدا دلانے  کی  کوشش کی  گئی ۔  تو مرزا  جی نے یکسر تما م  الزامات کو مستند قرار  یا اور تاسف سے بولے :۔ "ارے میاں کیا  ہر بات پہ کائیں کائیں  شروع کر دیتے ہو۔ کسی   کج فہم  عقل کے اندھے  کو اتنی دور کی سوجھی اور تم حساب لینے آگئے ۔ہمارا  حسنِ اخلاق  سب کیلئے  یکساں ہے  البتہ  صنف وجاہت  کو اس سہولت سے  مستفید  ہونے کیلئے ٹوکن لینا پڑتا ہے۔"

 حاتم طائی کی کہانیوں  سے متاثر  ہو کر  لوگوں کو چائے  پہ مدعو  کرنے لگے، اور حاسدین کو غش پہ غش  آنے لگےکہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔شر پسند ہومز اور جیمز باندرجیسے نامی گرامی  جاسوس ان کی ٹوہ بازی  پر مقرر  کیے گئے ۔کچھ عرصہ کی تاک جھانک اور  کن سوئیوں  سے  معلوم ہوا  کہ چائے  کا نام تو بس لوگوں کو  گھیرنے  کیلئے  استعمال  کیا گیا ہے ۔  لوگوں  کو چائے  کے نام پہ مدعو  کر لیتے ہیں  اور  پھر مجال ہے  جو کسی کو ایک  چسکی  بھی لینے دیں ۔  باتوں میں لگا کر  چائے  خود ہی پی جاتے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا  چلو پھر ہم  معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں۔ چہرے پہ شرافت کے تمام تر لوازمات  طلوع کیے فدوی نے بھی  درخواست کی کہ  کبھی تو  ہمیں بھی دعوت نامہ  دیا جائے ۔  گھاگ آدمی تھے فوراً تاڑ گئے  کہ "مدعا کیا  ہے" ارشاد  ہوا:۔" نہ میاں  تم بھاری  پڑو گے ہم  پر " تجاہل عارفانہ   سے میں نے  اس ارشاد کا شان نزول پوچھا تو جواب میں  ایک لطیفہ سنا دیا:۔
ایک شہر میں ایک  درزی سلائی کیلئے آئے ہوئے  کپڑے میں سے  کچھ کپڑا چوری کر نے کے حوالے سے  مشہور  تھا۔ایک  کوتوال صاحب  نے جو اس کی مشہوری سنی  کہ  اپنے فن میں اس قدر طاق  ہے کہ  چاہےبندہ  سامنے بیٹھ کر کٹائی  سلائی کروائے  پھر بھی  اسے کپڑا چراتے نہیں پکڑ سکتا۔ کوتوال صاحب  شیخی  میں آ گئے اور  دعویٰ کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے میرے سامنے     کپڑا  چراتا ہے۔  کوتوال صاحب  کپڑا  لے کر اس درزی کی دکان پہ جا پہنچے  اور  کہا  کہ شیروانی سلوانی ہے ۔  مگر ہم نے سنا ہے کہ  تم کپڑا  کاٹ لیتے  ہو،  اس لیے ہم اپنے سامنے  ہی کٹائی سلائی کروائیں گے۔  درزی نے  کہا  جیسے جناب  کی مرضی ۔ اور  اس کے سامنے ہی   ناپ کے مطابق  کٹائی شروع  کر دی۔  کچھ دیر بعد بولا  وقت گزاری کیلئے  کیوں نہ گپ شپ ہی کرتے رہیں ۔ کوتوال صاحب  نے خوشی  سے اجازت دے دی۔  درزی نے  ایک لطیفہ سنا دیا اور کوتوال صاحب  قہقہہ  لگا کر ہنس پڑے ۔ اسی  دوران  درزی نے عادت کے مطابق  کپڑے کا ایک  بڑا  سا ٹکڑا  کاٹ کر  گھٹنے  کے نیچے چھپا لیا۔  تھوڑی دیر  بعد کوتوال صاحب نے کہا میاں کوئی اور لطیفہ سناؤ۔ درزی نے لطیفہ سنایا اور جونہی  کوتوال صاحب ہنسے  درزی نے  ایک  اور ٹکڑا  بھی کاٹ لیا۔  کوتوال  صاحب کو مزہ آ گیا انہوں نے ایک اور لطیفے کی فرمائش کی  تو درزی نے  کہا:۔ "جناب مجھے  تو لطیفہ سنانے میں کوئی اعتراض نہیں  البتہ  ایک اور لطیفہ سننے  کے بعد  آپ کی  شیروانی  کیلئے کپڑا کم پڑ جائے گا۔"اس  کے  بعد  فرمایا۔اگر ہم نے تمہیں چائے پہ مدعو  کرلیا تو  بجائے اس کے ہم تمہیں باتوں میں الجھائیں  تم ہمیں کوئی  لطیفہ  سنا کر   چائے پہ ہاتھ صاف کر جاؤ  گے۔  تم  سے  تو بڑے  بڑے  پناہ مانگتے  ہیں۔" اگرچہ   بات خلاف مفاد تھی لیکن   چونکہ اپنی  تعریف میں تھی  اس    وجہ سے  خاکسار نے قطعاًبرا  نہ منایا۔

ڈراپ سین  کے طور پر  مناسب ہے  کہ فدوی  بچپن  کی یادوں میں  سے ایک  نظم سنا دے ۔ سمجھدار لوگوں کیلئے اشارہ ہی کافی  ہوتا ہے ۔  باقی  ماندہ  کیلئے  اللہ ہی  کافی ہے۔۔۔۔
بلبل  کا بچہ
کھاتا تھا  کھچڑی 
پیتا تھا چائے
میرے سرہانے
اک دن اکیلا
بیٹھا ہوا تھا
میں نے  اڑایا
واپس نہ آیا
مغل کابچہ
مغل کا بچہ

10 آرا:

  • 26 May 2014 at 23:36

    مزا آگیا جی! کیا بات ہے، لیکن میں بھی مرزا لفظ پڑھ کر چوکنا ہوگیا تھا کہ نجانے کس قسم کے مرزا ہیں۔ حقیقتاً ان کے ساتھ میری کوئی زیادہ گپ شپ نہیں رہی۔ آپ نے اچھا لکھا ہے۔ تحریر جتنی سادہ اور سلیس ہو اتنی زیادہ دیرپا اور پسندیدہ ہوتی ہے۔

  • 27 May 2014 at 01:12

    اب تو واقفیت ہو گئی نا مرزا جی سے۔۔۔؟؟؟؟
    پسندیدگی اور تبصرے کیلئے جزاک اللہ

    ویسے افسوس ہے کہ آپ نے ابھی تک الف نون کے نیکسٹ ایڈونچر نہیں پڑھے

  • 29 May 2014 at 02:48

    بھئی بہت عمدہ گو اسے شخصی خاکہ نہیں نثری خاکہ کہاجاسکتا ہے:) جس مذکورہ بالاگیت کا ذکرہواہے اُس کی پسندیدگی کی وجہ گائیکہ نہیں شاعر گلزار ہیں- تبصرہ بے حد محتاط ہوکرتحریرکرتاہوں ہوں کہ جلی حروف میں آپ نے لکھ رکھا ہے کہ مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں-
    ایک بار م م مغل سے ملاقات ہوئی تھی تو آپ کی نثرنگاری کا تذکرہ بھی ہوا اور واہ واہ بھی- میں چونکہ تعریف کے معاملے میں کچھ بدنام ہوچلا ہوں کہ مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہوں لہذا اب اپنی مثبت سوچ کو اور تعریف کو برملا ظاہر نہیں کرتا - میاں جیتے رہو اور یونہی لاجواب اور برجستہ تحریروں سے میدان مارتے رہو

  • 29 May 2014 at 06:42

    تاخیر کی معذرت کہ
    ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
    اور یہ باعثِ تاخیر غم روزگار اور وقت کے فرق کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ - آپ مشرق میں سراپا روشنی ہیں اور ہم مغرب میں ڈوبتا سورج بنے ہوئے ہیں

  • 29 May 2014 at 10:52

    اب چونکہ آپ ہمارےے استاد محترم کے (دور کے ہی سہی ) رشتہ دار لگتے ہیں اس لیے آپ کو یہ پروٹوکول دیا جاتا ۔ آپ کو یہ استثنا دیا گیا کہ آپ کی رائے سے مصنف (بادل نخواستہ ہی سہی) متفق ہو۔

    پسندیدگی کا شکریہ
    کچھ لوگوں کو امید تھی کہ مرزا اس پر لال پیلے ضرور ہوں گے، مگر سلام ہے آپ کی اعلی ظرفی کو کہ آپ غالب کی طرح اپنے ہی پرزے اڑنے کا تماشا دیکھنے آئے۔ اور سراہا بھی۔
    جزاک اللہ

    نثری خاکہ پر ہی گزارہ کریں ۔ شخصی خاکہ کیسے لکھوں میں کونسا آپ کے ساتھ بچپن میں یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی کھیلتا رہا ہوں ۔
    بس ذوالقرنین کی نقل کرنے کی ایک کوشش کی تھی۔

    اب جبکہ آپ کو بہت سا پروٹوکول اور استثنا حاصل ہو چکا ہے تو بخل سے کام نہ لیں
    خاکسار کی تعریف میں کوئی کمی نہ چھوڑیں
    کیونکہ
    و قلیل من عباد تعریف کنندگان

  • 29 May 2014 at 11:10

    مرزئیت بھی ایک منصب ہے! عظیم مرزا! اعظم مرزا! اکبر مرزا! الخ۔۔۔
    :)
    بھئی بات تو یہ ہے کہ ایک مدت بعد یہ کوئی تازہ نثر پڑھی تو طبیعت تازہ ہوئی۔ ایمان کا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن لائق تحسین، قابل ستائش و ناقابل بخشش تحریر کی تعریف کرنے کو میں اپنے فرائض عین منصبی اور محض منصبی، یعنی غیر منصبی، ہر دو کے خلاف سمجھتا ہوں اور اسے اپنا قرض سمجھتا ہوں یعنی روایتی قرض نا دہندہ ہوں۔۔۔

  • 29 May 2014 at 14:50

    آپ کی طرح فدوی کو مدت مدید بعد کچھ وکھری ٹائپ کا تبصرہ نصیب ہوا ہے۔۔۔۔
    جزاک اللہ
    آتے رہا کیجئے
    بہت سی تحریریں ایسے تبصروں کو ترس رہی ہیں

  • 12 August 2014 at 10:47

    اگرچہ اس تحریر میں میری صحت کو لے کر بہت تعصب برتا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی داد دیے بنا نہیں رہا جا سکتا۔۔ لاجواب ترین

  • 12 November 2014 at 09:45

    یہ انسان سدھر نہیں سکتا۔۔۔
    پتا نہیں کہاں کہاں سے نکال کر لاتا ہے۔
    عمدہ تحریر۔۔۔
    ویسے بچو! یہودیوں کو آپ کے بلاگ کا راستہ دکھادیا ہے میں نے۔۔

  • 17 November 2014 at 12:56

    ہاہاہاہاہاہاہا
    صدقے صدقے
    آج تو گمشدہ لوگ آئے ہیں

    خوش آمدید انیس الرحمن بھیا
    شکر ہے کہ آپ نے یہاں تبصرہ کر کے "کفر توڑا خدا خدا کر کے"
    جزاک اللہ
    اور بھی کئی تحریریں آپ کے حسنِ ذوق کو ترس رہی ہیں کب سے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما