Monday, 15 December 2014

چلتے ہو تو لاہور کو چلیے (قسط چہارم)۔

2 آرا
بورے والا کے بعد چیچہ وطنی کے باہر سےیوں گزرےجیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک جاتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو وادی ثمود میں سے گزرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ میں منزل بہ منزل ارسل اور افی صاحب کو برابر خبر دیتا رہا، مبادا یہ نہ کہیں کہ بے خبری میں آ لیا ہے ۔ بورے والا سے لاہور تک کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہ آیا ، سوائے اس کےکہ موٹر وے پر بس کے سامنے جاتے ٹرک کو اچانک بریک لگی تو بس اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ کمزور دل مسافروں نے کلمے پڑھے جبکہ میں نے غالب کا شعر :۔
ہم تھے تیار مرنے کو ، پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخے ٹرک میں کوئی بریک بھی تھا​
جیسے باقی شہر گزر گئے تھے ویسے ہی ساہیوال اور اوکاڑہ بھی یکے بعد دیگرے گزرتے گئے ، یہاں تک کہ لاہور کا بیرونی بس ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ آ گیا ۔ اس وقت سہ پہر کے تین بجے تھے ۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو ہر طرف جماعتِ اسلامی کے بینر اور پینا فلیکس لگے نظر آئے ، جن میں بنفس ِ نفیس محترم سراج الحق صاحب کھلے بازو میرا ستقبال کرتے اور خوش آمدید کہتے صاف نظر آ رہے تھے ۔ 
مجھ پر تو شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ واہ میرے مولا ، سبحان تیری قدرت ۔ جس نمانے کو اپنے علاقے میں بندہ بھی کوئی نہیں سمجھتا ، اس کا لاہور میں داخلے پر اس قدر پر شکوہ استقبال ۔۔۔۔آخر ان لوگوں کو خبر کیسے ہوئی کہ چھوٹے غالب کی آج لاہور تشریف آوری ہے۔ ۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ مجھ ناچیز پر بھی ایجنسیزکی گہری نظر ہے ۔ 
اس قدر پذیرائی پر پھولا نہ سمایا ، اور آنکھیں بھیگ گئیں ۔ چشمہ اتار کے آنکھیں صاف کیں اور چوڑا ہو کے بیٹھ گیا۔ بس ٹرمینل میں داخل ہوئی تو ایک اور روح افزا منظر دیکھا۔ایک طرف استبالیہ کیمپ لگا ہوا تھا ، جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ اتنے سار ےلوگ اپنے گھر بار ، کام دھندے چھوڑ کر بیرونِ شہر خاکسار کا استبال کرنے کو اکٹھے ہوئے ہیں ، یہ خیال مجھے مجبور کر رہا تھا اس پاکستانی ہیروئن کی طرح جنہوں نے ایک فلم میں سرسوں کا کھیت روندتے ہوئے رقص کے نام پہ چند قلابازیاں لگا کر سہیلیوں سے فرمایا :۔ 
من میں اٹھی نئی ترنگ
ناچے مورا انگ انگ
پنچھی تیرے سنگ سنگ
من چاہے اڑ جاؤں
کسی کے ہاتھ نہ آؤں ​
اور ساتھ کھڑا خوشامدی سہیلیوں کا ٹولہ بیک آواز چلایا :۔ 
اے سکھی ناں ، ناں ، ناں ۔۔۔۔۔​
پس سہیلیوں کی اس عدم موجودگی کو جواز بنا کر مابدولت نے اس نیم بے ہودہ خیال کو سنگلی ڈالنے کی کوشش کی تو خیال نے مینڈک کی طرح زقند لگائی اور "مرید پور" کے ریلوے سٹیشن پر جا پہنچا ، جہاں میرے آنجہانی کزن محترم پطرس بخاری کے ساتھ کوفیوں والا سلوک کیا گیا تھا ۔ اس عبرت انگیز خیال نے الٹا فدوی کو سنگلی ڈال دی اورمیں نے ایک جھرجھری لے کر اب کے بغور باہر کا جائزہ لیا ، جس کے نتیجے میں باقی ماندہ خوش فہمی بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ کیونکہ یہ سارا تام جھام اور استقبال تو جماعت اسلامی کے اجتماع میں شریک ہونے والوں کیلئے تھا ، جبکہ میرا تو دور دور تک جماعتِ اسلامی سے کوئی تعلق کجا کسی رکن سے علیک سلیک تک نہ تھی ۔ پس خاکسار جی بھر کے کھسیانا ہوا اور نوچنے کیلئے کوئی کھمبا میسر نہ آنے کی وجہ سے چپکا ہی بیٹھا رہا ۔تاآنکہ بس ٹرمینل سے نکلی اور آگے چل پڑی۔

وہ تو بھلا ہو ارسل مبشر کا جس کا عین اسی وقت فون آ گیااور مجھے حالیہ خفت مٹانے اور غم غلط کرنے کا غنیمت موقع ہاتھ لگ گیا۔ اب صورت ِ حال یہ تھی کہ کال ملتے ہی میں السلام علیکم کیے جا رہا ہوں اورجواب میں شاں شاں سن رہا ہوں۔ اپنی آواز بلند کی اور پوچھا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ جواباً کی بورڈ پہ ٹائپنگ جیسی آواز سنائی دی۔ تنگ آمد بہ بند آمد(نظریہ ضرورت کے تحت محاورے میں تحریف کی گئی ،لہذا اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں)۔ چند ثانیے بعد پھر موبائل بجا ، گھورنے پہ معلوم ہوا کہ پھر ارسل کی کال ہے ۔ کال ملنے پر وہی سوال دہرایا کہ کہاں پہنچے ہو ؟ کتنی دیر ہے لاہور پہنچنے میں؟ اور اس اللہ کے بندے نے سنی ان سنی کر کے میرا سوال مجھی پوچھ لیا ۔ دوسرے لفظوں میری آنتیں میرے گلے ڈال دیں۔
شرافت سے بتایا کہ حضور ! ابھی 3 منٹ پہلے باقاعدہ ایک تفصیلی پیغام بھیج چکا ہوں کہ میں ٹھوکر ٹرمینل تک پہنچ چکا ہوں ۔ اگر وہ سمجھ نہیں آیا تو اب بزبانِ خود آپ کے گوش گزارکرتا ہوں کہ بس ٹھوکر ٹرمینل سے نکل آئی ہے اور ساڑھے تین بجے تک انشاءاللہ لاہور پہنچنے والا ہوں۔ اب اگر طبع نازک پہ گراں بار نہ ہو تو مطلع فرمائیے کہ جناب کب لاہور میں قدم رنجہ فرمانے والے ہیں۔؟
جواب ملا کہ یار چھوٹے آفس میں اتنا بزی تھا کہ بلا ۔۔ بلا۔۔ ۔ بلا ۔۔ ۔ بلا۔ الغرض اس طویل تقریر کا لُبِ لباب صرف اتنا تھا کہ میں ابھی فیصل آباد سے نکلنے لگا ہوں ۔ چھ بجے تک پہنچ جاؤں گا۔
دل کے جلنے کا ایک اور سبب میسر آیا تو دل خوب بھڑ بھڑ جلنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھٹکار زدہ چہرے پہ مزید بارانِ پھٹکار ہوئی ، اور ایسا اندھیر چھایا کہ مجھ میں آئینہ دیکھنے جوگا حوصلہ بھی باقی نہ رہا۔ گویا بقول ِ غالب :۔
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا ، جل گیا​
بس میری نفسیاتی اکھاڑ پچھاڑ اور اندرونی خلفشار سے بے نیاز دوڑی دوڑی لاہور میں داخل ہو گئی ، اور سیدھی جا کے سٹی ٹرمینل پہ فرو کش ہو ئی ۔ میں نے جیکٹ اٹھائی ، سست روی سے بس سے خارج ہوا۔ ابھی میں ٹرمینل کے ویٹنگ روم کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایکا ایکی خود کودو تین کنڈکٹرحضرات کے نرغے میں پایا ۔ دل کو تسلی دی کہ نیوز چینلز کے رپورٹرز اور کیمرے نہ سہی کم از کنڈکٹرز نے تو ہمارے گرد گھیرا ڈالاہے۔ میں اپنے خیالوں میں گم تھا اور ان میں سے ہر ایک کا اصرار تھا کہ میں ان کی کمپنی کی بس میں سفر کروں ۔ کوئی مجھے بہاولپور لے جانے کیلئے کھینچ رہا تھا اور کوئی مجھے ملتان دکھانے پر تُلا تھا۔کوئی اور موقع ہوتا تو یقیناً میں اچھا خاصا شغل لگاتا ان کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتا ، ناک بھوں چڑھاتا ، اور بعد میں بتاتا کہ لاہور جانا ہے ۔ مگر چونکہ اس وقت سات گھنٹے کے طویل سفر سے آیا تھا اور کچھ گزشتہ واقعات پہ دل جلا ہوا تھا اس لیے میں نے ہاتھ اٹھا کر سب کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کی کہ ابھی ابھی توبس سے اترا ہوں ،اور میری یہ گھنی زلفیں اصلی ہیں کوئی امپورٹڈ وگ نہیں ۔ پس یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ میں" گنجا "نہیں اور نہ ہی یہ پرویز مشرف کی حکومت ہے کہ ائیر پورٹ پر اترتے ہی ڈی پورٹ کر دیا جاؤں ۔جہاں آپ کی بس جانے والی ہےمیں وہاں سے ہی ابھی آیا ہوں۔ اس لیے مجھ پر وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی اور سواری ڈھونڈ لو۔یہ سنتےہی سب تتر بتر ہو گئے اور میں اطمینان سےانتظار گاہ میں جا کر بیٹھ گیا۔ 

2 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما