Tuesday, 18 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط دہم) ۔

4 آرا

بارے  میس  کے  کچھ بیاں ہو جائے 


  اب جب کہ میس  کا نام بیچ میں  ٹپک ہی پڑا ہے ۔ تو مناسب ہے  کہ بر سبیلِ تذکرہ میس اور  اس  کا  مینیو  بھی بتا دیا  جائے  ۔ تاکہ  کوئی یہ نہ  سمجھے کہ دوسرے   مدرسوں  کی طرح ہمارا بھی مانی  لسی پہ گزارا تھا ۔

میس  کا ہیڈ کک   صابر جسے  ہم سب  "اماں "  کہا کرتے  تھے۔اس  سے پہلے  وہ پاک فوج  میں کھانا  پکاتا تھا ۔ اپنے  کام میں  بے حد  ماہر تھا ۔اللہ  نے اس کے ہاتھ  بے حد ذائقہ  دیا تھا ۔ لیکن  اس  بات کا احساس  ہمیں  چار سال  بعد  اس  کے چھوڑ  جانے  کے بعد  ہوا جب  ہمارا پیٹ ایک    نئے  خانساماں کی تجربہ گاہ  بن گیا ۔     عام روٹین  کھانے کی یہ  تھی  کہ
ناشتہ:۔ (گرمیوں  میں)  صبح کو  ڈبل روٹی  کے ساتھ  میٹھی  لسی۔ اور (سر دیوں  میں )  رسک  اور  چائے  کا  ایک  ہیوی مگ
دوپہر  کا کھانا:۔   تین  دن  سبزی  ۔ دو دن  بڑا گوشت ۔  ایک  دن (منگل )  بکرے کا گوشت
رات  کا  کھانا:۔ ایک  دن    ماش کی  دال  ۔ اور  ایک  دن  چنے  کی دال ۔ اس  طرح چھ  دن  دال  چلتی  اور  ایک  دن  حلیم  پکتی  تھی ۔
اس کے علاوہ  ہر ہفتے  کے دن  دوپہر  کو   چاول  پکتے  تھے ۔  ایک  پلیٹ  نمکین پلاؤ   اور ایک  پلیٹ  زردہ  فی طالب علم

آلو  ، گاجر، اور پیٹھا  (حلوہ کدو)  سے  میری  ان بن  اسی زمانے کی یادگار  ہے ۔ جو رفتہ رفتہ  پختہ  نفرت  میں بدل گئی ۔

لیکن اتنا  بہترین کھانا  جب مفت  میں اور وافر  دستیاب ہو  تو  امتِ محمدیہ  کے  لوگوں  میں بھی بنی  اسرائیل  والی  صفت  پیدا  ہو جانا کب  بعید   ہے ۔ افراط  نے  اجاڑ  نے  کا بہانہ  فراہم کردیا ۔ میس کمیٹی کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ طالب علم روٹیوں کے ساتھ بے دردانہ سلوک کرتے ہیں ، اتنی کھاتے نہیں جتنی اجاڑتے ہیں ، کوئی روٹیوں کے اوپر والے چھلکے کھا کے  باقی  چھوڑ دیتا، تو کوئی روٹی میں سےزگ زیگ انداز میں لقمے توڑتا ، حتیٰ کہ روٹیاں کسی اور کے کھانے کے لائق نہ رہ جاتیں ۔میس  کمیٹی  نے  اس کے  حل کے  طور  پر  فیصلہ کیاکہ ہر طالب علم کو دو روٹیاں دی جائیں  گی ۔
مجھے  اعتراف  ہے  کہ  میس کے اتنے شاندار  مینیو  اور بہترین  کھانے  (جس  کا تصور  صرف آرمی  میس  میں ہی کیا جا سکتا ہے) کے  باوجود   بھی  ہماری  بھوک  کسی  طرح  ہار  نہ مانتی  تھی ۔ اس  کا  سبب جاننا  بھی قارئین کیلئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

کیا مزہ ہوتا  ، اگر  پتھر میں  بھی ہوتا نمک


ایک مرتبہ  جوگی  نے کہیں کالا نمک  چکھ لیا ۔ بہت مزے دار لگا ۔  چونکہ اس کی شرح ِ قیمت   معلوم نہ تھی   اس لیے تجرباتی  طور پر  بذریعہ  چوکیدار بابا  ،پنساری   سے پانچ روپے  کا  کالا  نمک منگوایا  گیا ۔ یا تو  اس زمانے مہنگائی کا جن خواب ِ خرگوش  میں  تھا  یا   اس پنساری  کا شجرہ نسب  حاتم  طائی سے ملتا تھا  ۔ جس نے  تقریبا ً  تین  سیر سے زیادہ کالا نمک پارسل کر دیا ۔  بس پھر کیا تھا   اسدؔ  نیم جاں کی طرح جوگی  اور وسیم کےبھی"ہاتھ پاؤں  خوشی سے پھول گئے ۔"  شاید  ہمیں اتنا نمک  ملنے کی امید  نہیں  تھی  یا پھر  غالب  ؔ  مرحوم کی  روح ہم میں  حلول  کر گئی تھی ۔   موچی  کا ہتھوڑا ہتھیا  کر  اس تقریباً تین سیر  کالے نمک  کو مناسب  حجم کے چھوٹے  چھوٹے  ٹکڑوں میں  تقسیم کر دیا گیا۔ اور صبح ہوسٹل  چھوڑنے سے پہلے   ہماری  جیبوں میں کالے نمک  کی  ٹکڑیاں  لازماً  موجود ہوتی تھیں ۔  ایک  گولی  منہ  میں رکھ کے  چوستے رہتے اور  اس کے خاتمہ بالخیر  پر  ایک اور گولی  بذریعہ  دہانِ  ماراہ فنا پر  روانہ ہو جاتی ۔
نہ صرف خود  کھاتے  بلکہ  عادی سگریٹ  نوشوں  کی طرح دوسروں کو بھی  مفت  بانٹ  کر اس  کی لت لگانے  کی  بھرپور  کوشش  کرتے ۔ مگر بقول غالب (تحریف کے ساتھ)"منہ میں  رکھیں  کہاں ، طفلانِ بے پرواہ  نمک"۔ جبکہ ہمارا حال  حسبِ مصرعہ تھا  "کیا مزہ ہوتا  ، اگر  پتھر میں  بھی ہوتا نمک" (یاد رہے  کہ کلاس  رومز کے دیواروں  پرخوبصورت   کالا  سنگ مرمر  لگا  ہوا تھا ۔اگر  یہ سنگ ِ مر مر  بھی نمکین  ہوتا تو ہم یاجوج ماجوج کی طرح  اسے بھی چاٹ جاتے ۔)
نتیجہ  اس نمک  خوری  کا  عجیب برآمد ہوا۔
  پہلا نتیجہ تو  یہ ہوا  ہمارانظام ِ انہضام  انتہائی فعال  اور مستعد ہو گیا ۔شاید  اسی سبب  قبائلی  علاقے (کلاس  کی آخری رو) کی آبادی  اچانک  کم ہو کر  صرف دو رہ گئی ۔حیرانی  تو ہوئی  مگر   اس  کا  خوشگوار  اثر (صرف ہم پر) یہ  پڑا کہ خالی  پیریڈز  میں  ہمارے لیٹنے کیلئے وافر جگہ  میسر آگئی ۔ جبکہ ناخوشگوار  اثر  کی زد میں آنے  والے   بیچارے ٹھنس  ٹھنساکے   چار کی   جگہ  پہ چھ،    ناک پکڑ  کے بیٹھے رہتے  تھے ۔خیر ہم نے کونساکسی کو  روکا  تھا ۔
دوسرا نتیجہ نمک خوری  کا یہ ہوا کہ ہماری بھوک میں  پانچ  سو فیصد  اضافہ ہو گیا ۔  جتنا  کھاتے نمک کی دو گولیوں میں تحلیل ہو جاتا  اور پھر وہی ھل من مزید  کی  صدا دمادم  ۔چونکہ نحو میر ، پند نامہ  اور  انگلش  میں  ہمارا  سکہ چلتا تھا  ۔  چنانچہ  اس سکے  کو ہم  اپنی بھوک   مٹانے  کیلئے  استعمال کرنے  لگے ۔  ۔۔۔  اعلان کر دیا  گیا  کہ  ہم سے  نحو میر ، انگلش  اور علم الصیغہ  کی ٹیوشن پڑھنے  کے خواہشمند  مولانا  صاحبان  کو مطلع  کیا  جاتا  ہے کہ  پاپی پیٹ اور نالائق  طلبا ء  کے وسیع  تر مفاد  میں  اب  ہر قسم کا  مفتہ  منسوخ  کر  دیا گیا ہے ۔   تمام  نالائقوں پر  لازم ہے  کہ  گھر  سے لائی گئی سوغاتوں  میں  ہم بےچارے پردیسیوں کا   حصہ  کھلے دل اور کھلے  ہاتھ  سے  نکا لا جائے ۔  پنجیرے  ، ستو  ،   اورہمہ قسم  کے  حلوے    کے علاوہ  بیکری   کے بسکٹ  اور دودھ  سوڈا  بھی  قابل ِ قبول ہے ۔  (یہ آپشن  خاص طور پر  ان کیلئے  تھی  جنہیں خود بھی  حلوے  اور پنجیرے نصیب نہیں تھے )
اس طرح  ناشتہ   ، دوپہر  کے  کھانے  اور رات  کے کھانے  کا درمیانی  عرصہ  بھی  کھاتے پیتے  گزرنے لگا ۔

ہوئے تم دوست جس کے 


جب  تک میس میں کھانا وافر مقدار میں ملتا تھا ، تب تک کوئی ٹینشن نہیں تھی ، پھرحق سچ  بھی   تو یہی  تھا  کہ  صبح  کی ڈبل  روٹی  کے علاوہ  چار  روٹیاں  ایک  دن میں  ایک  طالب علم  کیلئے  بہت  تھیں ۔  مگر کیا  کیا  جائے  اس کالے نمک  کا  کہ  چھٹتا  نہیں ہے کافر منہ سے لگا ہوا۔
  غالب نے  بھی  کیا خوب  نکتہ  بیان فرمایا  ہے  :۔ "پاتے نہیں جب راہ ، تو چڑھ جاتے ہیں  نالے ۔"عین  یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہوا۔  ہم جیسے  بلا خوروں  کیلئے  تو چار  روٹیاں فی  دن  اونٹ  کے منہ میں  زیرہ  برابر تھیں ۔  بابو  پیٹ سنگھ  کی  فریادوں نے  جب زیادہ ہی کان  کھائے  تو  وسیم اور جوگی  نے  سر  کھجا کر  ایک عدد  ترکیب ڈھو  نڈ نکالی ۔  اب    یہ ہوتاتھا  کہ  میس میں  جاتے ہی  ہم  شد و مد  سے  مسلمان  مسلمان کا بھائی  ، اور مل جل کر  کھانے  میں برکت والی  احادیث  کی  تبلیغ  شروع کر دیتے ۔  اور سادہ لوح  جذباتی عوام  ہمارے  جھانسے میں آ کر  ہمارے  ساتھ  بیٹھ کر کھانا  کھانے  کو  عین  سعادت  اور  باعث ِ ثواب  سمجھنے  لگی ۔ اور  جب  پانچ  یا سات  طالب  علم  (جن کے حصے کی روٹیوں  کی تعداد  دس سے چودہ  تک  بنتی تھی ) مل جل  کر کھانے  کی  عملی صورت میں  روٹیاں  درمیان میں ڈھیر  کر کے  کھانا  شروع کرتے ۔ تو عین اسی وقت  اچانک  وسیم  اور جوگی  کو  غیب  سے  ایسے  ایسے مضامین  خیال  میں آنے لگتے ۔ جن  کا  تذکرہ  کسی  بھی سلیم  الطبع  اور  نفاست پسند کیلئے  کم از کم کھانا کھاتے  وقت  باعثِ  متلی  اور کراہت  ہوتا ہے ۔  مگر  ان کے   فی البدیہہ  بیان  میں  ہمیں  قطعاً  باک  نہ   تھا بلکہ  عین مفرح قلب  تھا۔لہذا  ہم چن چن  کر  ایسے لطیفے  ،  عربی  محاورے ،  اور  چٹکلے  چھوڑتے  کہ  بے چاروں  کے پیٹ میں  بمشکل  آدھی  روٹی  ہی پہنچ پاتی  ۔ ستائش  کی  تمنا اور پرواہ کس  کافر کو ہوتی تھی بھلا،  البتہ مالِ غنیمت  کے طور  پر  باقی  رہنے والی  کم از کم  بارہ  روٹیاں  ہم اپنے  حسنِ کلام اور مکروہ  بیانی   کا  صلہ  سمجھ کر  ان کے ساتھ پورا  پورا انصاف کرتے ۔ اس کا ایک فائدہ  کینٹین والے  کو  بھی ہوا۔  اس کے بسکٹ  اور  دودھ سوڈا  زیادہ  بکنے  لگا۔
پس ثابت ہوا کہ  ہماری یہ  حرکت   سراسر  مفادِ عامہ  میں  تھی۔        

4 آرا:

  • 19 June 2013 at 17:39

    مفادِ عامہ کے لئے نہیں بلکہ آپ کے اپنے مفاد میں تھی

  • 30 May 2014 at 09:15

    لیکن اتنا بہترین کھانا جب مفت میں اور وافر دستیاب ہو تو امتِ محمدیہ کے لوگوں میں بھی بنی اسرائیل والی صفت پیدا ہو جانا کب بعید ہے ۔ افراط نے اجاڑ نے کا بہانہ فراہم کردیا
    سچ کہا اور کیا خوب کہا
    اللہ برکتوں سے نوازے آمین

  • 30 May 2014 at 09:25

    ) مل جل کر کھانے کی عملی صورت میں روٹیاں درمیان میں ڈھیر کر کے کھانا شروع کرتے ۔ تو عین اسی وقت اچانک وسیم اور جوگی کو غیب سے ایسے ایسے مضامین خیال میں آنے لگتے ۔ جن کا تذکرہ کسی بھی سلیم الطبع اور نفاست پسند کیلئے کم از کم کھانا کھاتے وقت باعثِ متلی اور کراہت ہوتا ہے ۔ مگر ان کے فی البدیہہ بیان میں ہمیں قطعاً باک نہ تھا بلکہ عین مفرح قلب تھا۔لہذا ہم چن چن کر ایسے لطیفے ، عربی محاورے ، اور چٹکلے چھوڑتے کہ بے چاروں کے پیٹ میں بمشکل آدھی روٹی ہی پہنچ پاتی ۔ ستائش کی تمنا اور پرواہ کس کافر کو ہوتی تھی بھلا، البتہ مالِ غنیمت کے طور پر باقی رہنے والی کم از کم بارہ روٹیاں ہم اپنے حسنِ کلام اور مکروہ بیانی کا صلہ سمجھ کر ان کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتے ۔ اس کا ایک فائدہ کینٹین والے کو بھی ہوا۔ اس کے بسکٹ اور دودھ سوڈا زیادہ بکنے لگا۔
    پس ثابت ہوا کہ ہماری یہ حرکت سراسر مفادِ عامہ میں تھی
    لفظ نیہں کہ کچھ کہہ سکوں

  • 2 June 2014 at 22:33

    میں ایسے ہی سمجھ گیا
    پسندیدگی اور تبصرے کیلئے جزاک اللہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما