Friday, 21 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط یازدہم )۔

4 آرا

رکتی ہے  میری طبع تو ہوتی ہے  رواں اور

  
پیٹ داس  کچھ  عرصہ  تو  عیش کرتے  رہے ، رفتہ رفتہ  سب کی سمجھ  میں آ گیا  کہ  یہ  ایک سوچی سمجھی  سکیم  کے تحت  ان کی روٹیوں کا غاصبانہ استحصال  ہے ۔ چند ایک  دل جلوں کو  تو اس کے  پیچھے  یہودی لابی  اور  امریکا  کا ہاتھ بھی نظر  آگیا ۔اور  اب  ہمارے ساتھ بیٹھ کھانے  کو کوئی  راضی نہ  ہوتا ۔
ایک  دن  کے  اس  جزوی فاقے نے  دن  میں  تارے دکھائے  تو  ایک  اور  ترکیب نکال  لی گئی ۔ صبح  نو بجے  جب  کلاس  کے  حاضر  طلبا ء کی حاضری  میس کو  بھیجی جاتی  تو  ہم  اس میں پانچ طلباء  کا  اضافہ  کر دیتے ۔  مثلاً  اگر  ہماری  کلاس  کی حاضری  44  ہے  تو  میس میں ہماری کلاس کی  حاضری  49  بھیجی  جاتی ۔ابھی  کچھ ہفتے  پہلے  ہی  جوگی   کو  کلاس  کا مانیٹر  منتخب  کیا گیاتھا ۔اور اس  نشے میں   اختیارات  کا  اتنا سا  فائدہ اٹھانا  توکم از کم کسی بدعنوانی  کے زمرے  میں  نہیں آتا ۔یوں  یہ اضافی  10  روٹیاں  ہمارے ہی پیٹ میں  جانے لگیں ۔ اور راوی نے پھر سے چین لکھنا شروع کر دیا ۔ میس  سے نکلنے  والے  آخری غازی  ہمارے علاوہ  اور کون ہو سکتے تھے ۔  ایک دن اماں(صابر) نے دیکھا تو  ازراہِ مذاق کہہ ہی دیا  کہ کیا  کل کا کھانا  بھی آج  ہی کھا رہے ہو ۔؟
لیکن ایک اور مسئلہ  بھی  منہ پھاڑے  سامنے تھا ۔  سالن  کے اجاڑ  کو  بہانہ بنا کر  دوبارہ  سہ بارہ  سالن  لینے  کی  سہولت  بھی  ختم کر دی  گئی ۔ اور اس کا حل ہم  نے یوں نکالا  کہ  سالن کی تقسیم کے  وقت  دو تین کٹوریاں گھٹنے کی نیچے  بطور ریزرو فنڈ  غائب کر دیتے ۔  اور اطمینان  سے  کھاتے  رہتے کھاتے رہتے  کھاتے رہتے ۔  لیکن حاسدوں  کی بھی تو  کمی نہیں غالب ۔ ایک  کو  دباؤ  ہزار ابھرتے ہیں۔  کس کس  حاسد کا منہ بند کرتے ۔؟؟  یہ  راز بھی  تشت  از بام  ہو  گیا  کہ لاپتہ  کٹوریاں  ان  دو عمرو عیاروں کی زنبیل  میں غائب ہو جاتی  ہیں ۔   اور پھر  غریبوں  کی  روزی  روٹی  کو چشمِ حسود  نگل گئی ۔
فرمانِ غالب  کے عین مطابق "رو کی گئی  میری طبع تو ہو گئی رواں اور "  اب  جوگی  کی شاعری   کا موضوع  میس  اور ما فیہا  ہو گیا ۔  اس  زور  ِ بیاں کے نتیجے  میں  بہت  سی  مقبول  ترین پیروڈیاں اور بہترین  نظمیں  تخلیق ہوئیں ۔  جو  بھی  گانا  یا نعت  کانوں  میں اترتی  اس کی  فی البدیہہ  پیروڈی  جوگی  کا  قلم اگل دیتا ۔ بات  قلم سے نکلتی کوٹھے  چڑھتی اور زبانِ  زد عام ہو جاتی ۔


کچھ تو پڑھیے  کہ لوگ کہتے ہیں


بطور سویٹ  ڈش نمونہ کلام  حاضر ہے 
(اصل )
بادِ  صبا  سرکار  سے  کہنا۔ بے تاب  دل ہے  بے چین نیناں

(پیروڈی)
جا  کے ذرا ہیڈ  صاحب سے کہنا ۔  بے تاب ڈھڈ (پیٹ) ہے  بے چین نیناں
کہ کھائے  نہیں چاول  یہ پورا مہینہ 

خواجہ  غلام فرید  ؒ  کی مشہورِ زمانہ کافی  "پیلو پکیاں نیں          ۔ پکیاں  نیں ۔۔۔۔ آ چنوں  رل یار "جب جوگی  کے قلم سے نکلی  تو  صورت کچھ یوں تھی :۔
دالاں  پکیاں  نیں  ۔ پکیاں  نیں ۔۔۔۔ آ چکھوں  رل یار

دسو  منظور  اے  دعاواں کدوں  ہونیاں  (بتائیے یہ دعائیں کب منظور ہونگی )
کو جوگی  نے
دسو منسوخ  اے  دالاں کدوں  ہونیاں(بتائیے یہ دالیں  کب منسوخ  ہوں  گی)
کر دیا

بہت  سارا اردو  طبع  زاد کلام تو لوگ  پڑھنے لے گئے  اور  پھر مجھے دوبارہ  نصیب نہ ہوا۔  اس طرح کافی  سارا فی البدیہہ  کلام کچھ گم ہو گیا ۔ کچھ مجھے  یاد نہ رہا ۔ البتہ ایک  طنزیہ  نظم  قارئین کی  شادکامی کیلئے پیش ہے ۔جس کے بیشتر  اشعار  تو زمانہ برد ہو گئے  ، اور کچھ مصرعے  بھی آدھے یاد ہیں۔ اس لیے فی الحال اسی پر  قناعت کیجیئے  اور  داد  دیجیئے

کل پاؤں جو اتفاق سے میس  میں وڑ  گیا 
ناگاہ  کہ  ہڈیوں  کی پلیٹوں  میں گڑ گیا
بولے صدیق صاحب چل باہر  بے صبر
اک منٹ بھی  نہ ٹھہرا تھا کہ آ کے گھڑ گیا
رورو کے اوکھی سوکھی منت جو میں نے  کی
ان ڈٹھی  ڈِ گی  باتوں  سے  کچھ وہ بھی  ٹھر گیا 
حسرت  جو مرغ  کی دل میں لیے  بیٹھا کنیج  کے میں
"یار  آج دال  پکی ہے " یہ بتا مجھ کو خر گیا
گوڈے  وہ  جھوٹیوں  کے پکاتے ہیں بیشتر 
جس نے وہ  غالب چکھ لیے  ہو مادہ وہ  نر گیا 

جب  بچے بچے  کی  زبان پہ میرے اشعار  گونجے  تو  ظاہر  ہے بات کُو بکُو پھیل ہی گئی میس  کی رسوائی  کی ۔ ہوتے  ہوتے بات  اساتذہ  تک پہنچی ۔  اساتذہ  نے جب جوگی کا کلام  سنا تو  سندِ پسندیدگی کے ساتھ ایڈمن کونسل  تک بات پہنچا دی گئی ۔  جب میری شاعری اوپر تک پہنچی  تو میس کمیٹی میں چند مناسب تبدیلیاں  کی گئیں ۔ اور کچھ میس قوانین  میں بھی نرمی  کر دی گئی ۔ 

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور


اس  طرح جوگی کوباضابطہ طور پر  ادارے کا  دوسرا  شاعر  اور پہلا عوامی  شاعر   مان لیا گیا ۔دوسرا  اس  لیے  کہ   جوگی  سے پہلے شاعری کے گناہگار ایک کلاس سینئر  طالب علم  جناب  محمد جاوید  المتخلص بہ ساقی  تھے ۔  جوگی سے سینئر  ہونے  کے باوجود  ان  کو سوائے  ان کے  چند قریبی  دوست اور  ایک دو  خوش ذوق اساتذہ   کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا۔  جس کے اسباب میں  ایک  سبب تو یہ تھا  کہ حضرت سنجیدہ  شاعری  فرماتے  تھے ۔  اور  خاکم بدہن  آپ کی شاعری کا کل  اثاثہ  دوتین  پردہ  دار  مگر  ظالم اور مکار  خیالی محبوب ،  پچیس  چھبیس خیالی رقیب اور بارہ تیرہ انتہائی  خیالی  درد  و غم تھے ۔اس  کے مقابلے  میں جوگی  کی شاعری  بے شک ادبی  روح سے عاری سہی  مگر  حالاتِ حاضرہ  کی   بنیاد  پر  تھی ۔ حقیقت  نگاری  اور طنزو مزاح  کے بگھار  نے  مقبولیت  کے تمام اسباب فراہم کر دئیے ۔ 
شام کو مغرب کے کھانے کے بعد سبزہ زار میں محفلیں جمتی تھیں  اور سب سے بڑا مجمع  وہاں  ہوتا  تھا جہاں  جوگی اور وسیم پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہوتے ۔  شہرت اور مقبولیت کا نشہ ہی کچھ عجیب ہوتا  ہے ۔  طالب علم  تو خیر تھے ہی اساتذہ بھی  اکثر تازہ کلام کی فرمائشیں کرتے رہتے تھے ۔ بعض اوقات ایساہوتا کہ ٹیسٹ ٹالنے  کی غرض سے جوگی کے کلاس  فیلو  جوگی کے تازہ  ترین کلام کی آمد کا انکشاف کر دیتے ۔ اور استاد صاحب نہ چاہتے ہوئے بھی  ٹیسٹ ملتوی کر کے   بزم ِ سخن سجانے  کو ترجیح دیتے ۔  کسی کلاس کا اچھا رزلٹ آنے کی صورت میں جوگی کو  اس کلاس میں مدعو کیا جاتا تھا ۔ اور کلام ِ شاعر بزبانِ شاعر  ہی طلباء کا انعام ہوتا تھا۔

4 آرا:

  • 23 June 2013 at 01:08

    سچی بات کہہ رہا ہُوں آج کی تحریر پڑھ کر مزہ نہیں آیا
    پتہ نہیں کیوں؟
    اِس تحریر میں وہ چاشنی اور مزہ نہیں پایا جو آپ کے گذشتہ کام میں تھا
    شاید جوگی بدل گیا ہے یا بے دِلی میں لکھ گیا
    اِس کمنٹ کا ہماری ٹیلیفونک گفتگُو سے کوئی تعلق نہیں

  • 29 June 2013 at 09:26


    جوگی نہیں بدل سکتا
    فزکس کا کانسٹنٹ چاہے بدل جائے

    لیکن آپ شاید اسے من گھڑت قصہ سمجھ رہے تھے اس لیے مزہ نہیں آیا ہوگا
    جبکہ میں تو حقیقت لکھ رہا ہوں ، اس قسط میں یہی واقعات ظہور پذیر ہوئے تھے جو پیش کر دئیے

    مرغی اپنی جان سے گئی اور کھانے والے کو مزہ ہی نہ آیا

    تنقید کا کہا تھا تنقیص کا نہیں کہا تھا
    جہاں جہاں آپ کو کمزور پہلو نظر آئے ان کی نشاندہی کر دیجیئے میں بسر و چشم ان کی درستگی اور مزیدار بنانے کی کوشش کروں گا

  • 30 May 2014 at 09:50

    خوشی ہوئ کہ کچھ سوکھ کا سانس تو آیا
    واقعی شہرت اور مقبولیت کا نشہ ہی کچھ عجیب ہوتا ہے
    طلباء کا انعام تو خوب ہے بھئ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما