Friday, 7 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط ہفتم) ۔

4 آرا


سخیاں  زِ اموال  بر می خورند


آپ  کے بعد  بھی  آپ کا فیض  آپ  کے صاحبزادگان  کے توسط سے جاری ہے ۔  1997  ء  میں  آپ کے سجادہ نشین  آنجہانی  حضرت  سید محمد نواز  شاہ قادری رحمۃ  اللہ علیہ  نے  فیض  اور تعلم کے اس سلسلہ  کو مزید  ترقی  دینے کیلئے  حزب الرحمن   اسلامی  اکادمی  کا  افتتاح کیا ۔  یہ اپنی  نوعیت کا واحد  ادارہ ہے ۔  جو اس قدر  شاندار  تعلیم   چھٹی  جماعت  سے  لے کر  ایم  اے تک  اور  درسِ نظامی  ابتدا سے لے  کر  تکمیل  تک  بلا معاوضہ   فراہم  کرنے میں پیش پیش ہے ۔  جب مجھے یہاں داخلہ  نصیب  ہوا  تب  یہاں کے  ہیڈ  ماسٹر   جناب  عبدالرشید  صاحب ریٹائرڈ پرنسپل  آف ایچی سن   لاہور  تھے ۔  اس  سے آپ  شاید اندازہ  لگا  پائیں  کے  معیار ِ تعلیم  کیا ہوگا۔(اکادمی  کا  مزید  تعارف اس داستان میں گاہے  گاہے  ہوتا رہے گا)                       
یکم  اپریل  کو  پانچویں جماعت  کا  تحریری  ٹیسٹ  لے کر  منتخب کامیاب امیدواروں کومزید تعلیم کیلئے    چھٹی جماعت میں داخل  کیا جاتا  ہے ۔وہاں 600 بچوں میں 40 بچے منتخب ہوئے ، ظاہر ہے جوگی بھی ان میں سے ایک تھا۔ اوریوں  جوگی میاں حزب الرحمن اسلامی اکادمی ، قادر بخش شریف کے طالب علم ہوئے۔    


جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی  فرصت کے رات دن



زندگی کا اک نیا باب شروع ہوا۔ جوگی چھٹی جماعت کے ساتھ ساتھ مدرسے میں درسِ نظامی کی تعلیم بھی حاصل کرنے لگا ۔دعا  بابا  بھلے شاہ  نے مانگی  تھی مگر  قبول  جوگی کے حق  میں ہو گئی ۔یہاں   نہ جوگی کو کوئی جانتا تھا نہ  ہی جوگی کسی کو ۔ اگر ایک  دو  اساتذہ جانتے بھی تھے تو صرف ماموں کے حوالے سے ۔
وہاں کا ماحول بہت سخت قسم کا تھا ۔ جب تک جاگتے ہو سر پر ٹوپی کا ہونا لازمی ہے ۔محاورتاً نہیں  حقیقتاً ملا  صاحبان (طالب علموں ) کی دوڑ  صرف  نماز کی ادائیگی  کیلئے  مسجد  تک محدود  تھی۔ اس  کے علاوہ  کسی  بھی بہانے  سے  باہر جانے کی  اجازت  نہیں۔  حتیٰ  کے  پڑئیے  گر بیمار  تو  یہیں  حاضر ہوگا ڈاکدار(ڈاکٹر)باقی  بہانوں  کا تو ذکر ہی کیا حجامت کے  بہانے  بھی باہر جانے کا  پروانہ  ملنے کی کوئی صورت  نہیں ۔ کیونکہ  دو عدد  حجام  صبح  ناشتے  کے بعد  سے  عصر کے  وقت  تک   طلبا کی حجامت بنانے  کیلئے  ہمہ تن  تیار  کھڑے ہیں ۔ کینٹین  بھی  ایک  قدم کے فاصلے پر  موجود ہے ۔  گویا  کہ یہ   ایک سپیس  شٹل  ہے ۔  جس میں  ان  سفید  پوش  خلابازوں  کا  ارد گرد  کی دنیا  سے  کوئی  ربط  و  رفت  نہیں۔جائے  ماندن تو  بہت ہے ، مگر  پائے رفتن  کا نام  و نشان  بھی نہیں۔
کیوں گردشِ  مدام سے گھبرا نہ جائے  دل
  صبح کی نماز کے فورا ً بعد (یعنی 5 بج کر 20 منٹ پر) اسمبلی ہو گی ، سوا نو بجے ناشتہ ملے گا، اس کے بعد  سکول جانا ہوگا ، 12 بجے کھانے کا وقفہ ، پھر ظہر کی اذان تک بقیہ  پیریڈز، نماز کے فورا بعد ، درسِ نظامی کی کلاسز شروع ، اور عصر کی نما ز کے بعد فارغ وقت کھیلنے کیلئے ، مغرب کی نماز کے بعد کھانا ، عشا ء کی نماز تک پھر فراغت،تاکہ  گپیں  ہانک کر  پیٹ ہلکا کیا  جا سکے ۔عشا کی نماز سے 12 بجے تک بیٹھ کے  پڑھو،خبردار  جو کوئی  سویا تو  ۔  سوئی پہ سوئی  چڑھے  گی تو  گلو خلاصی  ہوگی ۔ تہجد کے وقت پھر  کھڑے ہو جاؤ، اور وہی روٹین پھر سے  جاری  ۔۔۔۔۔۔۔۔


رفت گیا اور بود تھا۔



باقی سب تو خیر تھی ۔۔۔۔ مگر علم الصرف کی ضرب ضربا ، ضربو سمجھ سے باہر تھی ۔ سمجھ آئے نہ آئے رٹا مارنا لازمی ہے کہ یہی قول ِ استاد تھا۔وہ  طالب  علم  صرف  میں  ہر  گز کامیاب  نہیں ہو سکتا  جو کتے کی  مانند  بلا  تکان  بھو بھو  بھو  گردان  کرنے کا  ہنر   نہ سیکھ  لے ۔ اس  کی سند میں  "نحویاں  باشد چوں شہاں ۔ صرفیاں  باشد چوں  سگاں "  کی برہانِ  قاطع  لائی جاتی تھی ۔ مگر صرف اسی پر ہی بس نہ تھی ۔ ثلاثی مجرد ، ثلاثی مزید فیہ ، ماضی معروف ، مجہول، مضارع ، اور پتا نہیں کیا الا بلا مقدر میں لکھا تھا ۔
 ایک اور تماشا علم النحو بھی تھا ۔ جامد ، مصدر ، مشتق ، ضمہ، فتحہ ، کسرہ، نصب ، جر ۔۔۔ حروف جار ، جملہ فعلیہ خبریہ، جملہ انشائیہ، نفی اثبات، ان ، کان  کا فعل پر عمل ، مبتدا ، خبر، یہ کیا کم تھا کہ ساتھ میں ترکیب کرنے کی مصیبت بھی ۔ اب بیٹھ کے جوگی صاحب بسم اللہ کی ترکیب کرتے ۔۔۔ ب جار۔ اسم مضاف۔ لفظ اللہ ، مضاف الیہ ۔الرحمن صفت اول ۔الرحیم صفت ثانی  ۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا ، مگر آگے ان کو ملانا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل نظر آتا تھا ۔
شروع کے دنوں میں جب کلاس سے ابھی پوری طرح تعارف نہ تھا ، اور جوگی گواچی گاں کی مانند منہ کھولے بیٹھا رہتا ۔ایک بار نحو  کے پیریڈ میں مولانا نذر محمد صاحب سبق سن رہے تھے ، (ان کی عادت تھی وہ کچھ تو تیز بولتے تھے ، اور کچھ لفظ چبا بھی لیتے تھے ) پہلے ڈیسک سے سننے لگے، "ہاں بھئی جامد" اور لڑکے نے جامد کی تعریف سنا دی، "ہاں بھئی مصدر" اور لڑکے نے تعریف سنا دی ،" ہاں بھئی مشتق " اور لڑکے نے تعریف سنا دی۔  آخری رو میں بیٹھا جوگی اس بات پہ  حیران تھا کہ "عجیب بات ہے یار ، ہر تیسرے لڑکے کا نام مشتاق ہے"۔


اس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو 



چھٹی جماعت کا یہ واقعہ  ہے  ۔ 
اسلامیات کا پیریڈ جاری  تھا ۔   ۔۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السلام والا سبق تھا ۔۔۔۔۔
استاد صاحب پڑھا رہے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر تھا ، اور وہ ایک بت تراش تھا ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
جوگی سے رہا نہ گیا اور کہا :۔ استاد محترم ! آپ شاید غلطی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کو ان کا والد بتا رہے ہیں ۔ استاد صاحب غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور بولے کہ اچھا تو اب مجھے تم اسلامیات پڑھاؤ گے، کیا میں نہیں جانتا کہ ان  کے والد کا نام آزر تھا ۔ اچھا  ! اگر  ان  کے باپ کا نام آزر نہیں تو پھر کیا تھا ؟  جوگی نے کھڑے ہو کرمؤدبانہ  کہا :۔"تارح"۔
طاہر حیات صاحب کا غصہ آسمان چھونے لگا    اوردرسی کتاب کھول کر سامنے رکھ دی  جس میں   ایک آیت  "اذ قال ابراہیم   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ" کا ترجمہ " جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آزر سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔الخ"بھی ساتھ ہی لکھا تھا ۔ 
اور اس کے  ساتھ ہی جوگی کو کان پکڑنے کا نادر شاہی حکم دیا ۔تم دنیا کے بڑے علامہ آ گئے ہو جو استاد کو پڑھائے  گا ۔۔۔اور یہ کیا کتاب میں غلط لکھا ہے؟۔۔۔۔۔ نیز تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ ان کے والد کا نام آزر نہیں تارح تھا۔اوراس سے پہلے  کہ  جوگی بے چارہ اپنی  صفائی اور سند  میں  کچھ کہتا کہ  ڈنڈوں کی برسات شروع ہوگئی۔۔۔ جب مار مار کے تھک گئے تو پوچھا کہ ہاں ! اب بتاؤ سمجھ آ یا کہ نہیں ؟ ۔ جوگی نےکہا کہ سر آپ ٹھیک ہیں اپنی جگہ ، مگر میری  بدقسمتی  سے   تاریخی سچ  یہی ہے کہ ان کے والد کا نام آزر نہیں تارح ہی تھا۔
طاہر صاحب کے تو تلوے سے لگی اور پھر بجھی ہی نہیں ۔ جوگی کو  کان سے پکڑا اور کھینچتے ہوئے سٹاف روم میں لے گئے ۔ علامہ جوگی کی زیارت کر لیں بھئی سب لوگ ۔یہ اپنے اساتذہ سے بھی زیادہ علم رکھتے ہیں ۔صورتِ حال معلوم ہونے پرشیخ الحدیث علامہ سعیدی صاحب ، مولانا نذر محمد صاحب  اور مولانا غلام محمد صاحب نے جب متفقہ طور پر گواہی دی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام آزر نہیں تارح تھا ۔ اور بچہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے  تو  طاہر صاحب سمجھے کہ شاید جوگی کی جان بچانے کیلئے یہ سب جھوٹ کہہ کر  شیخ سعدی  کی  نصیحت  پر عمل  کی  سعادت   حاصل  کررہے ہیں۔ آخر کار لائبریر ی سے 6، 7 موٹی تازی کتابیں منگوا کر ان کی تسلی کرائی گئی کہ بچہ بالکل ٹھیک کہہ رہاتھا، تو طاہر صاحب کا غصہ بجائے ٹھنڈا ہونے کے اور زیادہ ہو گیا ۔ اور پھرجوگی کی   مستقل شامت آ گئی ۔ اگر کسی ٹیسٹ میں 100 میں سے 99 نمبر بھی آ جاتے تب بھی طاہر صاحب جوگی کو مرغا بنا کر ڈنڈوں سے خاطر  تواضع کرتے تھے ، کہ اگر لائبریری چاٹنے کی بجائے نصابی کتب پر توجہ دی ہوتی  تو یہ ایک نمبر  بھی حاصل کر سکتے  تھے۔

4 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما