Saturday, 29 June 2013

ڈبویا مجھ کو ہونے نے (قسط دوازدہم) ۔

3 آرا

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں  مجھے


وقت  گزرتا رہا ۔  جوگی بڑھتا رہا۔  اب  آٹھویں  جماعت  میں  تھا ۔   درسِ  نظامی میں علم ِ فقہ  کی کتاب  "نور الایضاح"جہاں نئے مباحث  کا باعث  بنی    اور  گلستانِ  سعدی  نے  جوگی   کے  خلاق  ذہن کو  مہمیز  کر دیا۔وہیں اب  شعر  و شاعری سے دلچسپی  بھی بڑھ گئی ۔ کچھ  اساتذہ  جو ہمیشہ  حوصلہ افزائی فرماتے تھے  انہوں نے مشورہ دیا کہ  اچھے اچھے شاعروں کے کلام  کا مطالعہ  کرو  تاکہ    شاعری کی  روشوں  سے کماحقہ  واقفیت ہو سکے  ۔  شاعری کے مطالعہ  کا  یہ  فائدہ  یا نقصان  ہوا کہ بے شمار شعر ازبر ہو گئے ۔ اردو  کے سبجیکٹ  کا تو خیر شاعری سے چولی دامن کا ساتھ  ہے ہی  ،معاشرتی علوم  میں  بھی بر محل  اشعار کھپ  ہی جاتے ہیں  ۔ مگر  جوگی میاں  نے تو حد  ہی کر دی ۔ سائنس کے مضمون میں بھی اشعار  کی گنجائش  ڈھونڈ  نکالی ۔
 ٹیسٹ میں سوال آیا :۔ "عملِ  تعدیل  سے کیا مراد ہے ؟  وضاحت کیجیئے وغیرہ وغیرہ "
اور ذرا  اس کاجواب سن کر سر دھنیے :۔
 "عملِ تعدیل  سے مراد ایسا کیمیائی  عمل ہے  جس میں تیزاب  (ایسڈ)میں کیمیائی  تعامل کے باعث  نہ وہ  اساس رہتا ہے نہ الکلی ۔جیسا کہ بقول شاعر :۔ 
نہ خدا ملا نہ وصالِ صنم 
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 
غضنفر  صاحب سائنس  کے  استاد تھے ۔ اور کٹر سائنسی آدمی تھے ۔ شاعری جیسی خرافات سے انہیں  الرجی ہے  ، اس بات  کا تو علم  تھا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ  اس ایک  شعر  کی پاداش  میں  تمام درست  جوابات کے بھی صفر نمبر دیں  گے ۔  اور یہ بات تو  اظہر من الشمس  ہے کہ صفر نمبر  لینے والے کے  مقدر میں ڈنڈے  جوتے ہی ہوتے ہیں۔  قسمت کا لکھا سمجھ کے چپ چاپ کھا لیے ۔


بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل 


ایک دن  میں 16  پیریڈز ہوتے تھے ۔ اور  ہر پیریڈ  تقریباً  35 منٹ کا  ہوتا تھا ۔  اس لیے  کلاس  کی حاضری  اسمبلی  ہال  میں  ہی لگائی جاتی تھی ۔  جو اسمبلی  میں حاضر نہیں۔ وہ  چاہے سارادن کلاس میں بیٹھا  رہے  رجسٹر پر اس کی  غیر حاضری ہی لگائی  جائے گی ۔  دن میں دو بار حاضری ہوگی ۔  اور ایک  وقت  کی غیر حاضری  کا  جرمانہ  25  روپے  ،سزا  الگ سے ۔  یعنی کہ ایک دن کی غیر حاضری کی صورت میں چھترول  کے علاوہ  50 روپے  جرمانہ  بھی  ادا کرنا ہوگا۔ 
حاضری  لگانا اور  پھر اسے حاضری  رجسٹر  پر منتقل کرنا کلاس  مانیٹر  کی سرد ردی  ہوتی تھی ۔ اور  مزے  تو اس  کلاس  کے تھے  جس کا مانیٹر  جوگی تھا ۔   ا س کلاس میں جب سے جوگی  نے مانیٹر  کا عہدہ  سنبھالا  ادارے کو ایک  روپیہ  بھی جرمانے کی  مد میں وصول  نہ ہوا۔  ایسا بھی نہیں کہ طلباء حاضر باش  ہو گئے ۔ اسمبلی  میں  حاضری لگتی  ۔  اور جو بندے غیر حاضر  ہوتے ان  کا رول  نمبر پکارا ہی نہ جاتا۔  اور نہ ہی  یہ  غیر حاضری رجسٹر پر منتقل ہوتی ۔ البتہ  غیر حاضر  طالب  علم  سے مبلغ  25 روپے  وصول کر کے  ساری  کلاس  قلفیاں کھاتی تھی ۔    پورے  ادارے  میں صرف اسی کلاس میں ائیر فریشر سپرے  کیا جاتا تھا  جو کہ اسی  فنڈ  سے خریدا گیا تھا ۔  نیز  عمران سیریز  اور  فلمی  رسالے  میں اسی فنڈ سے خریدے جاتے تھے ۔


بلائے جاں ہے غالب  اس کی ہر  بات



جوگی  اور وسیم کی  جوڑی  بے مثال تھی ۔ جناب  محمد حنیف  صاحب  اکثر کسی بات کی مثال میں یہی کہا کرتے تھے۔  کہ  دیکھو ایک روح   فیصل آباد سے  آئی  دوسری  لودھراں سے  اور ان  کی  شکلیں اور جسامت  تو کیا  حرکات  و  افعال سے  بھی  لگتا ہے  کہ  جڑواں  ہیں۔ 
اس  جوڑی  کی کاہلی  اور  سستی   ضرب المثل کے درجے پر تھی ۔ ان دونوں  کو نہائے  ہوئے بعض اوقات  مہینوں  گزر جاتے  تھے ۔  پانی  سے  اتنا تو کوئی  سگ گزیدہ (ہائیڈرو  فوبیا کا مریض)  بھی نہ ڈرتا ہوگا  جتنا کہ  یہ اللہ کے بندے  ڈرتے  تھے ۔   نماز  پڑھنے کیلئے  وضو  ضروری  تھا  مگر  یہ دونوں فقہ  کی  بڑی بڑی کتابوں  میں اس لیے  سر کھپایا  کرتے  شاید  کسی  امام  کے  نزدیک  تیمم  کیلئے  آسان شرائط ہوں ۔
جب  بھی  کوئی نئے استاد  صاحب آتے  تھے ۔ تو  ان  سے اس  جوڑی کے  تعارفی  کلمات  میں ان کی  کاہلی  کا  ذکر  ضرور  کیا جاتا  تھا ۔  ایک  بار رشید  صاحب حسبِ معمول  اپنے  دورے پر  آئے  تو اپنے  ساتھ آئے   مولانا حبیب  صاحب  سے  مخاطب ہو کر  بولے :۔(پنجابی سے اردو ترجمہ) "حبیب صاحب!  یہ بڑے ڈھیلے  مولوی ہیں۔  نہ نہانے  کی ان  لوگوں  نے قسم  کھا رکھی  ہے ۔"حتیٰ کہ جناب رشید صاحب  نے ان دونوں کو  روزانہ  نہانے  کا حکم دیا ۔ اور اس  کی باقاعدہ  چیکنگ  بھی ہوتی تھی ۔ رشید صاحب روزانہ اپنے  ہوسٹل کے دورے پر  ان  سے ضرور نہانے  کی بابت نہ صرف پوچھا کرتے بلکہ  ان کے قریب آکر   سونگھا کرتے کہ واقعی نہائے ہیں یا نہیں۔خیر  جوگی اور وسیم نے اس کا بھی حل نکال لیا ۔  عشا  ء کی نماز کے  بعد  تبت ٹالکم  پاؤڈر چھڑک لیا کرتے ۔  اور کسی اعتراض  کی  صورت میں ان کا جواب ہوتا  کہ  خوشبو کاا ستعمال سنت ِ رسول ﷺ  ہے ۔    
نہ نہانے کے علاوہ  اس  جوڑی  کی  ایک  اور نمایا ں  خصوصیت  بے ہوشی  کی نیند تھی ۔  ایک منٹ  بھی  فراغت  کا نصیب  ہواتو  یہ   فوراً  اپنے  گھوڑے گدھے  اونے پونے  بیچ  کر نندیا پور  کے   سفر  پر چل پڑتے ۔  جیسے کہ  غالب  نے فرمایا  کہ  :۔
جب میکدہ چھٹا پھر جگہ  کی کیا  قید
مسجد ہو  ، خانقاہ ہو  ، مدرسہ ہو
بالکل  ایسے ہی  ان  کا  قول تھا  کہ  
جب  بستر  چھٹا  تو  جگہ کی  کیا قید 
مسجد ہو، کلاس  ہو  ،  یا  چبوترہ ہو
نصابی  کتب  ان دونوں  کے پاس مکمل  صرف پہلے  سال  دیکھی گئیں ۔ دوسرے  سال  یعنی جب سے یہ دوست ہوئے  پھر  کتاب نام کا کوئی نخچیر  ان کے فتراک  میں  نہ پایا گیا ۔  کتابیں  خریدنے  کیلئے  ملنے والا  بجٹ  عمران سیریز  کو پیارا ہو جاتا ۔  اور  کتابوں  کی کمی کلاس میں  لیکچرکو  غور سے  سن کر پورا کیا جاتا تھا۔  حتی ٰ کہ آٹھویں  میں نوبت بہ اینجا رسید  کہ  اس جوڑی  کے پاس رف کاپی  تک نہ تھی ۔  اس مقصد  کیلئے  دوسروں  کی  کاپیوں رجسڑز  کا  اجاڑا کیا جاتا ۔ کسی  چوں  چراں کی صورت میں اول تو  ایثار  اور بھائی  چارے  کی تقریر  سے کام چل جاتا تھا  ۔ لیکن اگر  کوئی مائی کا  لال  زیادہ  ہی تنگ آیا ہوتا  اور اس ترکیب سے رام نہ ہوتا تو  پھر  اسے  حاضری  اور  کسی اور  معاملے  میں رگڑا دینے  کی دھمکی  دی جاتی ۔
قارئین  کے دل میں یقیناً  خیال  آ رہا ہوگا  کہ  جب ان کے پاس کتاب تو کیا رف کاپی  تک نہ پائی  جاتی تھی  تو  امتحان کیسے  پاس  کرتے تھے ۔؟  اچھا سوال  ہے  مگر  اس کا جواب  اس سے بھی زیادہ  اچھا اور نہایت سادہ ہے ۔  اپنی  خداداد ذہانت  اور تھوڑی سی سیاست  کے  ذریعے  نہ صرف پاس  بلکہ  بہت  بہت اچھے  نمبروں سے پاس ہوتے تھے ۔ سیاست  یہ تھی کہ عین امتحان  کے قریب  اچانک  فلمی رسائل  وبا کی طرح ان کی کلاس میں  پھوٹ پڑتے  ۔  اور  اگر  کوئی  للچاتے  سر ورق، اور توبہ شکن  ، ترکِ زہد تصاویر سے  بھرے رسالے  سے  آنکھیں  سینکنے  کا   طلب گار  سر ِ نیاز  ان کے آستانے پر رگڑتا  تو دنیا کے  قدیم ترین  اقتصادی اصول  یعنی بارٹر سسٹم کے  تحت  اس کے بدلے اسے  اپنی کتابیں اور نوٹس  ان کے  حوالے  کرنے پڑتے ۔  البتہ  زاہدانِ خشک  کو  باقاعدہ  پیپسی  پلا کر  مفت  میں یہ رسالے بانٹےجاتے ۔  کتابیں  ہاتھ نہیں آتیں نہ آئیں، مگر  ہم سے زیادہ  نمبر  لے کر  کوئی  اچھا بچہ  کا خطاب  تو  نہ پائے۔

خدا شرمائے  ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں


ایک دن میں سولہ  پیریڈز  کیا کم تھے  کہ ایک اور کا بھی اضافہ ہو گیا ۔ مگر  یہ  اضافہ  بہت  خوشگوار  ٹھہرا ۔ جب   جوگی  میاں  کا تعارف  کمپیوٹر سے ہوا ۔ 
یہ اس زمانے  کی  بات ہے جب پاکستان میں کمپیوٹر کا  نام  بھی  بہت  کم لوگوں نے سنا تھا ۔
اکادمی   کے طلبا  ء کیلئے گیارہ  کمپیوٹر فراہم کیے گئے ۔  ایم  ایس ڈاس ، اور ونڈوز 95  آپریٹنگ  سسٹم ہوا کرتے تھے ۔ جی ڈبلیو بیسک  پڑھائی  جاتی تھی لیکن  ہمیں پینٹ  میں اپنا نام  لکھ کر  پھر  ڈیسک ٹاپ پر  بطور  وال پیپر  سجا نا اور پھر  دیکھ دیکھ  کرخوش  ہوتے رہنا زیادہ  مزے  دار لگتا تھا ۔
آفس 97  میں  ایم ایس ورڈ میں بار بار اپنا نام  لکھنا  اور ایم ایس پاور  پوائنٹ میں سلائیڈز بنا کر  اپنے نام کے حروف کو ناچتے  ہوئے حرکت کرتے ہوئے دیکھنا  ۔   
پھر  معلوم ہوا کہ ایک  نئی ونڈوز آئی  ہے ۔ بے حد خوبصورت ہے ۔  اس میں  کمپیوٹر چلانے  کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ اور  تو اور اس میں گیمز  بھی کھیل  سکتے ہیں  اور نعتیں وغیرہ  بھی  سن سکتے ہیں۔ ونڈوز 95  کا تو اب نام  سننا ہی برا لگتا تھا ۔ کمپیوٹر  کے باقی پنگے  تو ایک طرف رہے سچ تو یہ ہے کہ ونڈوز 98  انسٹال  ہونے کے بعد  کمپیوٹر کا سٹارٹ ہونا  بھی  بہت  اچھا لگتا تھا ۔پھر  نیڈ فار سپیڈ میں کاروں  کی ریس  اور وی  کوپ  میں  چوروں  کا پیچھا کرنا۔ مولویوں کی  تو دنیا  ہی رنگین ہو گئی ۔
اس طرح کمپیوٹر سے  جڑنے والا وہ   رشتہ    اب  تک قائم ہے۔            

3 آرا:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آپ کی قیمتی آرا کا منتظر
فدوی چھوٹا غالب

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔

تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ایڈریس پر حاصل کریں

There was an error in this gadget

کرم فرما